Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
11:50
والى عاد اخاهم هودا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من الاه غيره ان انتم الا مفترون ٥٠
وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۚ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۖ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ ٥٠
وَإِلَىٰ
عَادٍ
أَخَاهُمۡ
هُودٗاۚ
قَالَ
يَٰقَوۡمِ
ٱعۡبُدُواْ
ٱللَّهَ
مَا
لَكُم
مِّنۡ
إِلَٰهٍ
غَيۡرُهُۥٓۖ
إِنۡ
أَنتُمۡ
إِلَّا
مُفۡتَرُونَ
٥٠
And to the people of ’Âd We sent their brother Hûd. He said, “O my people! Worship Allah. You have no god other than Him. You do nothing but fabricate lies ˹against Allah˺.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 11:50 to 11:52

قوم عاد کی ہدایت کے لیے حضرت ہود کو اٹھایا گیا جو انھیں کے بھائی تھے۔یہ پیغمبروں کے باب میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے وہ بخوبی طورپر قوم کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی زبان کو جانتے ہیں اور زیادہ موثر طورپر اس کے اندر دعوت حق کا کام کرسکتے ہیں۔

حضرت ہود نے اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کا پیغام دیا۔ اسی کے ساتھ انھوںنے یہ بھی کہا کہ تمھارا جو دین ہے وہ محض ایک جھوٹ ہے جو تم نے گھڑ لیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کا طریقہ معروف معنوں میں صرف ’’مثبت طور پر‘‘ اپنی بات کہنے کا طریقہ نہیں ہے۔ بلکہ اسی کے ساتھ وہ کھلی کھلی تنقید بھی کرتاہے۔ کیوں کہ جب تک تنقید و تجزیہ کے ذریعہ ناحق کا ناحق ہونا واضح نہ کیا جائے اس وقت تک حق کا حق ہونا لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔

ہر پیغمبر کے زمانہ میںایسا ہوا کہ اس کے مخالفین اس کی پیغمبری کو ماننے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ کوئی بڑا عہدیدار ہو، اس کو دولت کے خزانے حاصل ہوں، وہ عالی شان عمارتوں میں رہتا ہو۔ مگر حق کے داعی کو جانچنے کا یہ معیار صحیح نہیں۔ داعی کی صداقت جانچنے کا اصل معیا ر یہ ہے کہ وہ اپنے مشن میں پوری طرح سنجیدہ ہو، اس کی بات آخری حد تک مدلّل ہو۔ وہ ہر قسم کی دنیوی غرض سے بالا تر ہو۔ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ عین حقیقتِ واقعہ ہو۔ اس کا پیغام کائناتی نظام سے کامل مطابقت رکھتا ہو۔ اس کو اختیار کرنا کامیابی کی شاہراہ پر چلناہو۔

تمھاری قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔ اس فقرہ کا مطلب مادی قوت میں اضافہ نہیں ہے۔ کیونکہ قوم عاد اپنے زمانہ میں نہایت طاقت ور تھی۔ قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر نے جب ان کوعذاب سے ڈرایا تو انھوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہے (مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً، حم السجدۃ، 41:15 )۔ اس لیے مادی قوت میں اضافہ کی بات، دعوتی اعتبار سے ان کے لیے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتی تھی۔

اِس آیت میں قوت پر اضافہ کا مطلب ہے مادی قوت پر ایمانی قوت کا اضافہ۔ پیغمبر کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم ایمانی زندگی اختیار کر لو تو اس سے تم کو اخلاقی اور روحانی قوت حاصل ہوگی۔ موجودہ مادی زور کے ساتھ اخلاقی اور روحانی زور ملنے سے تمھاری طاقت گھٹے گی نہیں بلکہ وہ مزید بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved