Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
11:85
ويا قوم اوفوا المكيال والميزان بالقسط ولا تبخسوا الناس اشياءهم ولا تعثوا في الارض مفسدين ٨٥
وَيَـٰقَوْمِ أَوْفُوا۟ ٱلْمِكْيَالَ وَٱلْمِيزَانَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٨٥
وَيَٰقَوۡمِ
أَوۡفُواْ
ٱلۡمِكۡيَالَ
وَٱلۡمِيزَانَ
بِٱلۡقِسۡطِۖ
وَلَا
تَبۡخَسُواْ
ٱلنَّاسَ
أَشۡيَآءَهُمۡ
وَلَا
تَعۡثَوۡاْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مُفۡسِدِينَ
٨٥
O  my people! Give full measure and weigh with justice. Do not defraud people of their property, nor go about spreading corruption in the land.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 11:84 to 11:86

مدین کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان تھا۔ ان کے پیغمبر حضرت شعیب کا اپنی قوم سے یہ کہنا کہ ’’اگر تم ایمان والے ہو‘‘ ظاہر کرتاہے کہ ان کی قوم مومن ہونے کی مدعی تھی۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے زمانہ کی مسلمان قوم تھی۔ وہ حضرت شعیب سے پہلے آنے والے نبی کی امت تھی اور اب لمبا عرصہ گزرنے کے بعد ان کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ آگیا تھا۔

حضرت شعیب نے ان سے کہا کہ اگر تم مومن ہونے کے دعوے دار ہو تو تمھارا دعویٰ خدا کے یہاں اسی وقت مانا جائے گا جب کہ تم اپنے دعوے کے تقاضے پورے کرو۔ تقاضا پورا کیے بغیر دعوے کی کوئی قیمت نہیں۔

تمھارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لین دین میں انصاف برتو۔ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے۔ زمین میں اس طرح رہو جس طرح خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندے رہیں۔ جائز طریقہ سے حاصل كيے ہوئے رزق پر قناعت کرو، نہ کہ نافرمانی کرکے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا کرو تبھی تم خدا کے یہاں مومن ٹھہرو گے۔ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کا عذاب تم کو پکڑ لے۔

حضرت شعیب نے ایک طرف یہ کہا کہ لوگوں کو کم نہ دو۔ دوسری طرف یہ فرمایا کہ ’’آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں‘‘۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ قوم شعیب میں کچھ غریب تھے اور کچھ امیر۔ کچھ زیادہ پانے والے تھے اور کچھ وہ تھے جن کو گھٹا کر مل رہا تھا۔ اگر سارے لوگ کم پانے والے ہوتے تو ان میں ’’اچھے حال والا‘‘ کون باقی رہتا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جن مخاطبین کا ذکر ہے وہ قوم کے بااثر اور صاحب حیثیت افراد تھے۔ انبیاء اگر چہ ہر ایک کی ہدایت کے لیے آتے ہیں مگر ان کا خطاب خاص طور پر وقت کے ممتاز طبقہ سے ہوتاہے۔کیونکہ عوام انھیں لوگوں کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ خواص تک دعوت پہنچنا بالواسطہ طورپر عوام تک بھی دعوت کا پہنچنا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved