Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
11:89
ويا قوم لا يجرمنكم شقاقي ان يصيبكم مثل ما اصاب قوم نوح او قوم هود او قوم صالح وما قوم لوط منكم ببعيد ٨٩
وَيَـٰقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِىٓ أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَآ أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَـٰلِحٍۢ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍۢ مِّنكُم بِبَعِيدٍۢ ٨٩
وَيَٰقَوۡمِ
لَا
يَجۡرِمَنَّكُمۡ
شِقَاقِيٓ
أَن
يُصِيبَكُم
مِّثۡلُ
مَآ
أَصَابَ
قَوۡمَ
نُوحٍ
أَوۡ
قَوۡمَ
هُودٍ
أَوۡ
قَوۡمَ
صَٰلِحٖۚ
وَمَا
قَوۡمُ
لُوطٖ
مِّنكُم
بِبَعِيدٖ
٨٩
O  my people! Do not let your opposition to me lead you to a fate similar to that of the people of Noah, or Hûd, or Ṣâliḥ. And the people of Lot are not far from you.1
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 11:88 to 11:90

ماننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے تقلیدی طورپر ماننا۔ دوسراصحیح سمجھ کر ماننا۔ پہلی صورت میں آدمی کسی بات کو اس لیے مانتا ہے کہ لوگ اس کو مانتے ہیں۔ دوسری صورت میں وہ اس کواس لیے مانتا ہے کہ اس نے خود دلیل کی بنیاد پر پایا ہے کہ وہ بات صحیح ہے۔ اوّل الذکر اگر رسمی اقرار ہے تو ثانی الذکر شعوری دریافت۔

حق کو دلیل (ياشعور) کی سطح پر پانا ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ اسی سے وہ زندہ یقین حاصل ہوتا ہے جب کہ آدمی ہر چیز سے بے پروا ہو کر لوگوں کے درمیان کھڑا ہو اور حق کی نمائندگی کرسکے۔ حق کی شعوری یافت ہر دوسری چیز کا بدل ہے۔ جس کو یہ نعمت حاصل ہوجائے اس کو پھر کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

عام آدمی’’روٹی‘‘ پر جیتاہے۔ مومن وہ انسان ہے جو دلیل حق پر جیتاہے۔ اس طرح کا رزق (شعوری یافت) ملنے کے بعد آدمی کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے۔قول وعمل کا تضاد رسمی ایمان کا نتیجہ ہے اور قول وعمل کی یکسانیت شعوری ایمان کا نتیجہ۔

’’شقاق‘‘ کی تشریح میں حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ میری دشمنی تم کو ایمان کا راستہ چھوڑ دینے پر نہ ابھارے کہ اس کے بعد تم کو وہ سزا ملے جو کافروں کو ملی (لَا يَحْمِلَنَّكُمْ مُعَادَاتِي عَلَى تَرْكِ الْإِيمَانِ فَيُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَ الْكُفَّارَ ) تفسیر القرطبی، جلد9، صفحہ 90

داعی چونکہ اپنے زمانہ کے لوگوں کو ایک عام انسان کی مانند نظر آتاہے۔ اس لیے ا س كي ناقدانہ باتوں سے وہ لوگ بگڑ ا ٹھتے ہیں جن کو ماحول میں اونچی حیثیت حاصل ہو۔ ایک معمولی آدمی کی یہ جرأت ان کے لیے ناقابل برداشت ہوجاتی ہے کہ وہ ان پر اور ان کے بڑوں پر تنقید کرے۔ اس وجہ سے ان کے اندر داعی کے خلاف ضد اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔

کسی آدمی کے اندر اس قسم کی نفسیات کا پیدا ہونا اس کا نہایت کڑے امتحان میں مبتلا کیا جانا ہے۔ کیونکہ ایساآدمی ایک شخص کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کی طرف سے آنے والی خدائی بات کو بھی حقیر سمجھ لیتاہے۔ وہ ایک انسان کو نظر انداز کرنے کے نام پر خود خدا کو نظر انداز کردیتاہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved