Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
13:5
۞ وان تعجب فعجب قولهم ااذا كنا ترابا اانا لفي خلق جديد اولايك الذين كفروا بربهم واولايك الاغلال في اعناقهم واولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ٥
۞ وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌۭ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَغْلَـٰلُ فِىٓ أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٥
۞ وَإِن
تَعۡجَبۡ
فَعَجَبٞ
قَوۡلُهُمۡ
أَءِذَا
كُنَّا
تُرَٰبًا
أَءِنَّا
لَفِي
خَلۡقٖ
جَدِيدٍۗ
أُوْلَٰٓئِكَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
بِرَبِّهِمۡۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
ٱلۡأَغۡلَٰلُ
فِيٓ
أَعۡنَاقِهِمۡۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلنَّارِۖ
هُمۡ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
٥
˹Now,˺ if anything should amaze you ˹O Prophet˺, then it is their question: “When we are reduced to dust, will we really be raised as a new creation?” It is they who have disbelieved in their Lord. It is they who will have shackles around their necks. And it is they who will be the residents of the Fire. They will be there forever.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

دوسری زندگی کے منکرین کا کیس نہایت عجیب ہے۔ وہ جس واقعہ کے ظہور کو ایک بار مان رہے ہیں اسی واقعہ کے دوبارہ ظہور کا انکار کردیتے ہیں۔

جو لوگ دوسری زندگی کے وقوع کو نہیں مانتے وہ دوسری زندگی کا عقیدہ رکھنے والوں پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہوتاہے کہ دوسری زندگی کو ماننا ایک غیر علمی بات کو ماننا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیوںکہ کوئی منکر جس چیز کا انکار کرسکتاہے، وہ صرف دوسری زندگی ہے۔ جہاں تک پہلی زندگی کا تعلق ہے اس کاانکار کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ کیونکہ وہ تو ایک زندہ واقعہ کے طورپر ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ پھر جب پہلی زندگی کا وجود میں آنا ممکن ہے تو دوسری زندگی کا وجود میںآنا ناممکن کیوں ہو۔

ایسے لوگ ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں جو خدا کے منکرہوں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک خالق کو مانتے ہیں مگر وہ آخرت کو نہیں مانتے۔ مگر آخرت کے انکار کے بعد خالق کے اقرار کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ خدا اس کائنات کا خالق ہی نہیں وہ بذاتِ خود حق بھی ہے۔ خدا کا سراپا حق اور عدل ہونا لازمی طور پر تقاضا کرتاہے کہ وہ جو کچھ کرے حق اور عدل کے مطابق کرے۔ آخرت دراصل خدا کی صفت عدل کا ظہور ہے۔ خداکا ماننا وہی ماننا ہے جب کہ اس کے ساتھ آخرت کو بھی مانا جائے۔ آخرت کو مانے بغیر خدا کا عقیدہ مکمل نہیںہوتا۔

جو لوگ حق کے سیدھے اور سچے پیغام کو نہیں مانتے اس کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ جمود اور تعصب اور اَنانیت کے شکار ہوتے ہیں۔ان سے بات کیجيے تو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ خود اپنے خیالات کے قیدی بنے ہوئے ہیں۔ اس سے نکل کر وہ آزادانہ طورپر کسی خارجی حقیقت پر غور نہیں کرسکتے۔ اسی حالت کو ’’گردن میں طوق پڑنا‘‘ فرمایا۔ کیوں کہ گردن میں طوق ہونا غلامی کی علامت ہے۔ گویا کہ یہ لوگ خود اپنے خیالات کے غلام ہیں۔ جو لوگ اس طرح اپنے آپ کو دنیا میں قیدی بنالیں، آخرت میں بھی ان کے حصے میں قید ہی آئے گی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved