قدیم مکہ جہاں بنو اسماعیل بسائے گئے وہاں کی پہاڑی اور صحرائی دنیا گویا خدا کی معرفت کی قدرتی تربیت گاہ تھی۔ دوسری طرف وہاں انسانی تعمیرات کے اعتبار سے واحد قابل لحاظ نشان کعبۃ اللہ تھا۔ ایک طرف فطرت کاماحول انسان کے اندر خدا کی یاد ابھارنے والا تھا۔ اس کے بعد اپنے قریب اس کو جو نمایاں چیز نظر آتی تھی وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بنائی ہوئی پتھروں کی مسجد تھی جس میں داخل ہو کر وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔
پھر اس ماحول میں بنو اسماعیل کو معجزاتی طورپر زمزم کے ذریعہ پانی مہیا کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ان کے لیے یہ انتظام کیا گیا کہ ایسی پیدوار سے ان کو رزق ملے جو ان کے قدموں کے نیچے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ گویا ان کو شاکر بنانے کا خصوصی اہتمام تھا۔ غیر معمولی نعمت سے آدمی کے اندر شکر کا غیر معمولی جذبہ ابھرتاہے۔ اور یہی وہ حکمت ہے جو حضرت ابراہیم کی اس دعامیں چھپی ہوئی تھی کہ صحرا میں انھیں پھلوں کی روزی دے ۔