صراطِ مستقیم کی تشریح مجاہد اور حسن اور قتادہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد حق کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف نکلتاہے اور اسی پر ختم ہوتاہے (طَرِيقُ الْحَقِّ مَرْجِعُهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
مگر جب آدمی صرف خداکو اپنا مرکز توجہ بناتاہے اوراسی کو سب کچھ سمجھ کر اپنی زندگی کو خدا کے رخ پر چلاتا ہے تو بالکل قدرتی بات ہے کہ اس کا سفر خدا کی طرف جاری ہو اور بالآخر وہ خدا تک پہنچ جائے۔ خدا قادر ہے اور انسان عاجز۔ اس لیے خدا اور بندے کے درمیان ایک ہی صحیح نسبت ہے اور وہ عبدیت کی نسبت ہے۔ عبدیت کی روش اختیار کرنا خداکے ساتھ اپنی صحیح ترین نسبت کو پالینا ہے ۔ جس شخص کی نسبت خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس پر شیطان کا ز ور نہیں چلتا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ اپنی نسبت قائم نہ کی، اس کی نسبت شیطان کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے۔ پھر وہ شیطان کے مشوروں پر چلنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ جاتاہے جہاں بالآخر شیطان کو پہنچنا ہے۔
جہنم جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کا آخری ٹھکانا ہے،اس کے سات درجے ہیں۔ (قَالَ عِكْرمة ’’سَبْعَةُ أَبْوَابٍ‘‘ سَبْعَةُ أَطْبَاقٍ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ