قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اس کے مختلف حصے
اس قسم کی ’’تبدیلیوں‘‘ کو لے کر مخالفین یہ کہتے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ یہ محمد کی اپنی تصنیف ہے، جس کو انھوںنے خدا کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اگر وہ خدا کی طرف سے ہوتی تو اس میں کبھی اس قسم کی تبدیلیاں نہ ہوتیں۔
مخالفین اگر قرآن کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے اور تبدیلی کے واقعہ کو صحیح رخ سے دیکھتے تو اس میںانھیں تدریج فی الاحکام کی حکمت نظر آتی۔ مگر جب انھوں نے اس کو غلط رخ سے دیکھا تو تبدیلی کا واقعہ انھیں انسانی علم کی کمی کا نتیجہ نظر آیا، جس چیز میں ان کے لیے تصدیق کا سامان چھپا ہوا تھا اس کو انھوںنے اپنے لیے افترا کا ذریعہ بنالیا۔
قرآن کو حق کے ساتھ اتارا گیا ہے — یہاں حق سے مراد خدا کا خالص اور بے آمیز دین ہے۔ جو لوگ سچائی کے طالب ہوں اور ملاوٹی دینوں میں اطمینان نہ پاتے ہوں، ان کےلیے قرآنی دین میں اپنی تلاش کا جواب بھی ہے اور ان کی تسکین قلب کا سامان بھی۔