Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
18:26
قل الله اعلم بما لبثوا له غيب السماوات والارض ابصر به واسمع ما لهم من دونه من ولي ولا يشرك في حكمه احدا ٢٦
قُلِ ٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا۟ ۖ لَهُۥ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَبْصِرْ بِهِۦ وَأَسْمِعْ ۚ مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا يُشْرِكُ فِى حُكْمِهِۦٓ أَحَدًۭا ٢٦
قُلِ
ٱللَّهُ
أَعۡلَمُ
بِمَا
لَبِثُواْۖ
لَهُۥ
غَيۡبُ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۖ
أَبۡصِرۡ
بِهِۦ
وَأَسۡمِعۡۚ
مَا
لَهُم
مِّن
دُونِهِۦ
مِن
وَلِيّٖ
وَلَا
يُشۡرِكُ
فِي
حُكۡمِهِۦٓ
أَحَدٗا
٢٦
Say, ˹O Prophet,˺ “Allah knows best how long they stayed. With Him ˹alone˺ is ˹the knowledge of˺ the unseen of the heavens and the earth. How perfectly He hears and sees! They have no guardian besides Him, and He shares His command with none.”
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 18:25 to 18:26
اصحاب کہف کتنا سوئے ؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی علیہ السلام کو اس مدت کی خبر دیتا ہے، جو اصحاب کہف نے اپنے سونے کے زمانے میں گزاری کہ وہ مدت سورج کے حساب سے تین سو سال کی تھی اور چاند کے حساب سے تین سو نو سال کی تھی۔ فی الواقع شمسی اور قمری سال میں سو سال پر تین سال کا فرق پڑتا ہے، اسی لیے تین سو الگ بیان کر کے پھر نو الگ بیان کئے۔

صفحہ نمبر4879

پھر فرماتا ہے کہ جب تجھ سے ان کے سونے کی مدت دریافت کی جائے اور تیرے پاس اس کا کچھ علم نہ ہو اور نہ اللہ نے تجھے واقف کیا ہو تو تو آگے نہ بڑھ اور ایسے امور میں یہ جواب دیا کر کہ اللہ ہی کوصحیح علم ہے، آسمان اور زمین کا غیب وہی جانتا ہے، ہاں جسے وہ جو بات بتا دے وہ جان لیتا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تین سو سال ٹھہرے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی معنی کی قرأت مروی ہے۔ لیکن حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول تامل طلب ہے اس لیے کہ اہل کتاب کے ہاں شمسی سال کا رواج ہے اور وہ تین سو سال مانتے ہیں۔ تین سو نو کا ان کا قول نہیں، اگر ان ہی کا قول نقل ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ اور نو سال زیادہ کئے۔ بظاہر تو یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات کی خبر دے رہا ہے نہ کہ کسی کا قول بیان فرماتا ہے، یہی اختیار امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ کی روایت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کی قرأت دونوں منقطع ہیں۔ پھر شاذ بھی ہیں، جمہور کی قرأت وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ پس وہ شاذ دلیل کے قابل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4880

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کی آواز کو خوب سن رہا ہے۔ ان الفاظ میں تعریف کا مبالغہ ہے، ان دونوں لفظوں میں مدح کا مبالغہ ہے یعنی وہ خوب دیکھنے سننے والا ہے۔ ہر موجود چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر آواز کو سن رہا ہے۔ کوئی کام کوئی کلام اس سے مخفی نہیں، کوئی اس سے زیادہ سننے دیکھنے والا نہیں۔ سب کے عمل دیکھ رہا ہے، سب کی باتیں سن رہا ہے، خلق کا خالق، امر کا مالک وہی ہے۔ کوئی اس کے فرمان کو رد نہیں کر سکتا۔ اس کا کوئی وزیر اور مددگار نہیں، نہ کوئی شریک اور مشیر ہے۔ وہ ان تمام کمیوں سے پاک ہے، تمام نقائص سے دور ہے۔

صفحہ نمبر4881
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved