Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
18:32
۞ واضرب لهم مثلا رجلين جعلنا لاحدهما جنتين من اعناب وحففناهما بنخل وجعلنا بينهما زرعا ٣٢
۞ وَٱضْرِبْ لَهُم مَّثَلًۭا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَـٰبٍۢ وَحَفَفْنَـٰهُمَا بِنَخْلٍۢ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًۭا ٣٢
۞ وَٱضۡرِبۡ
لَهُم
مَّثَلٗا
رَّجُلَيۡنِ
جَعَلۡنَا
لِأَحَدِهِمَا
جَنَّتَيۡنِ
مِنۡ
أَعۡنَٰبٖ
وَحَفَفۡنَٰهُمَا
بِنَخۡلٖ
وَجَعَلۡنَا
بَيۡنَهُمَا
زَرۡعٗا
٣٢
Give them ˹O Prophet˺ an example of two men. To ˹the disbelieving˺ one We gave two gardens of grapevines, which We surrounded with palm trees and placed ˹various˺ crops in between.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

اس رکوع میں دو اشخاص کے باہمی مکالمے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور بہت سی دوسری دنیوی نعمتوں سے نواز رکھا تھا۔ وہ شخص اپنی خوشحالی میں اس قدر مگن ہوا کہ اس کی نگاہ اللہ سے ہٹ کر مادی وسائل پر ہی جم کر رہ گئی اور انہی اسباب و وسائل کو وہ اپنے توکل اور بھروسے کا مرکز بنا بیٹھا۔ اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص تھا جو دنیوی لحاظ سے خوشحال تو نہیں تھا مگر اسے اللہ کی معرفت حاصل تھی۔ اس نے اس دولت مند شخص کو نصیحت کی کہ اللہ نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے مگر تم اسے بالکل ہی بھولے ہوئے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ دولت مند شخص نے گھمنڈ میں آکر اس کی نصیحت کا بہت تلخ جواب دیا اور کہا کہ مجھے تو یہ ساری نعمتیں اس لیے ملی ہیں کہ میں اللہ کا چہیتا ہوں جبکہ میرے مقابلے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ کے اس بندے نے اسے پھر سمجھایا کہ دیکھو اپنے دنیوی مال و اسباب پر مت اتراؤ ‘ کیونکہ اللہ اگر چاہے تو تمہارے یہ سارے ٹھاٹھ باٹھ پل بھر میں ختم کر کے رکھ دے۔ وہ چاہے تو تمہاری ساری دولت اور مال و اسباب کو ضائع کرسکتا ہے۔ اس نے جواباً کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ میں نے اپنے مال و اسباب کی حفاظت کا خوب بندوبست کر رکھا ہے۔ الغرض ان تمام نصیحتوں کا اس شخص پر کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ دنیوی اسباب کے نشے نے اس کو اس قدر اندھا کر رکھا تھا کہ اسے حقیقی مسبب الاسباب کی قدرت کا کچھ اندازہ ہی نہ رہا۔ بالآخر اس کے اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا سب کچھ برباد کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے رویے پر کف افسوس ملتا رہ گیا۔ اپنی بربادی کے بعد جب اس شخص کی آنکھیں کھلیں تو تب بہت دیرہو چکی تھی۔ یہاں اس دولت مند شخص کا وہ فقرہ خاص طور پر قابل غور ہے جو اپنی بربادی کے بعد پچھتاتے ہوئے اس کی زبان سے نکلا تھا کہ ”کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کیا ہوتا !“ دیکھا جائے تو اس سارے واقعے میں کسی ظاہری شرک کا ارتکاب نظر نہیں آتا۔ کسی دیوی یا دیوتا کی پوجا پاٹ کا بھی کوئی حوالہ یہاں نہیں آیا اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کا بھی ذکر نہیں ہوا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا اقدام تھا جس پر وہ شخص پچھتایا کہ کاش میں نے اپنے رب سے شرک نہ کیا ہوتا ! اس پہلو سے اگر اس سارے واقعے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نکتہ سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں جس شرک کا ذکر ہوا ہے وہ ”مادہ پرستی“ کا شرک ہے۔ اس شخص نے اپنے مادی اسباب و وسائل کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ لیا تھا۔ جو بھروسا اور توکل اسے حقیقی مسبب الاسباب پر کرنا چاہیے تھا وہ بھروسا اور توکل اس نے اپنے مادی وسائل پر کرلیا تھا اور اس طرح ان مادی وسائل کو معبود کا درجہ دے دیا تھا۔ یہی رویہ اور یہی سوچ مادہ پرستی ہے اور یہی موجودہ دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ موجودہ دور ستارہ پرستی اور بت پرستی کا دور نہیں۔ آج کا انسان ستاروں کی اصل حقیقت جان لینے اور چاند پر قدم رکھ لینے کے بعد ان کی پوجا کیونکر کرے گا ؟ چناچہ آج کے دور میں اللہ کو چھوڑ کر انسان نے جو معبود بنائے ہیں ان میں مادہ پرستی اور وطن پرستی سب سے اہم ہیں۔ آج دولت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مادی وسائل اور ذرائع کو مسبب الاسباب سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ موجودہ دور کا بہت خطرناک شرک ہے اور اس سے محفوظ رہنے کے لیے اسے بہت باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّحَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ انگوروں کی بیلوں کے گردا گرد کھجوروں کے درختوں کی باڑ تھی تاکہ نازک بیلیں آندھی ‘ طوفان وغیرہ سے محفوظ رہیں۔وَّجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًابنیادی طور پر وہ انگوروں کے باغات تھے۔ ان کے اطراف میں کھجوروں کے درخت تھے جن کی دوہری افادیت تھی۔ ان درختوں سے کھجوریں بھی حاصل ہوتی تھیں اور وہ حفاظتی باڑ کا کام بھی دیتے تھے۔ درمیان میں کچھ زمین کاشت کاری کے لیے بھی تھی جس سے اناج وغیرہ حاصل ہوتا تھا۔ گویا ہر لحاظ سے مثالی باغات تھے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved