Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
22:38
۞ ان الله يدافع عن الذين امنوا ان الله لا يحب كل خوان كفور ٣٨
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍۢ كَفُورٍ ٣٨
۞ إِنَّ
ٱللَّهَ
يُدَٰفِعُ
عَنِ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْۗ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يُحِبُّ
كُلَّ
خَوَّانٖ
كَفُورٍ
٣٨
Indeed, Allah defends those who believe. Surely Allah does not like whoever is deceitful, ungrateful.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

اب ہمیں جن آیات کا مطالعہ کرنا ہے ان میں وارد احکام حضور ﷺ کی دعوت و تحریک کی جدوجہد میں ایک نئے موڑ turning point کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ وہی آیات ہیں جو ہجرت کے سفر کے دوران میں نازل ہوئی تھیں۔ قبل ازیں آیت 11 کے ضمن میں حضرت عبداللہ بن عباس رض کی روایت کا حوالہ گزر چکا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سورت کی کچھ آیات اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئی تھیں۔۔ ان آیات کا مضمون اور مقام و محل اس پہلو سے بھی قابل غور ہے کہ سورة البقرۃ کے 23 ویں رکوع میں یعنی تقریباً سورت کے وسط میں رمضان المبارک اور روزے کے احکام و فضائل کا ذکر ہے اور اس کے بعد دو رکوع 24 واں اور 25 واں رکوع قتال فی سبیل اللہ اور مناسک حج کے احکام پر مشتمل ہیں۔ بالکل اسی طرح یہاں بھی اس سورت کے تقریباً وسط میں دو رکوع مناسک حج پر مشتمل ہیں اور اس کے فوراً بعد اب قتال فی سبیل اللہ کا ذکر آ رہا ہے۔ اس سے اگرچہ سورة البقرۃ اور سورة الحج کی باہمی مشابہت بھی ظاہر ہوتی ہے لیکن ایک بہت اہم حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں مضامین حج اور قتال فی سبیل اللہ میں بہت گہرا ربط ہے۔ اس ربط اور تعلق کی وجہ بظاہر یہ نظر آتی ہے کہ کعبۃ اللہ جو خدائے واحد کی عبادت کے لیے بنایا گیا تھا وہ ان آیات کے نزول کے وقت مشرکین کے زیر تسلط تھا اور توحید کے اس مرکز کو انہوں نے شرک کا اڈّا بنایا ہوا تھا۔ چناچہ اس وقت امت مسلمہ کا پہلا فرض منصبی یہ قرار پایا کہ وہ اللہ کے اس گھر کو مشرکین کے تسلط سے واگزار کرا کے اسے واقعتا توحید کا مرکز بنائے۔ لیکن یہ کام دعوت اور وعظ سے ہونے والا تو نہیں تھا ‘ اس کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں مقامات پر حج بیت اللہ کے احکام کے ساتھ ساتھ قتال فی سبیل اللہ کا تذکرہ ہے۔آیت 38 اِنَّ اللّٰہَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط ”اس تحریک میں اب جو نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے اس میں مسلح تصادم نا گزیر ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر کا اصل پیغام یہ ہے کہ اس رزم گاہ میں اہل ایمان خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ ان کی مدد اور نصرت کے لیے اور ان کے دشمنوں کو بیخ و بنُ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اللہ ان کی پشت پر موجود ہے۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُوْرٍ ”یہ یقیناً مشرکین مکہ کا تذکرہ ہے ‘ جو ایک طرف خیانت کی انتہائی حدود کو پھلانگ گئے تو دوسری طرف ناشکری میں بھی ننگ انسانیت ٹھہرے۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وراثت کے امین تھے۔ بیت اللہ گویا ان لوگوں کے پاس ان بزرگوں کی امانت تھی۔ یہ گھر تو تعمیر ہی اللہ کی عبادت کے لیے ہوا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی گواہی ان الفاظ میں دی تھی : رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ابراہیم : 37 کہ پروردگار ! میں اپنی اولاد کو اس گھر کے پہلو میں اس لیے بسانے جا رہا ہوں کہ یہ لوگ تیری عبادت کریں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے یہ دعا بھی کی تھی : وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ ابراہیم کہ پروردگار ! مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی کی لعنت سے بچائے رکھنا۔ چناچہ مشرکین مکہّ نے اللہ کے اس گھر اور توحید کے اس مرکز کو شرک سے آلودہ کر کے اللہ تعالیٰ ہی کی نافرمانی نہیں کی تھی بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی متبرک امانت میں خیانت کا ارتکاب بھی کیا تھا۔دوسری طرف یہ لوگ اپنے کرتوتوں سے اللہ کی نا شکری کے مرتکب بھی ہوئے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں مکہ کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہ بیت اللہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف تھے کہ مشرق و مغرب کے درمیان تجارتی میدان میں ان کی اجارہ داری خانہ کعبہ ہی کے طفیل قائم ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شام موسم گرما اور یمن موسم سرما کے درمیان ان کے قافلے قبائلی حملوں اور روایتی لوٹ مار سے محفوظ رہتے تھے تو صرف اس لیے کہ وہ بیت اللہ کے متولی تھے۔ یہی وہ حقائق تھے جن کی طرف ان کی توجہ سورة القریش میں دلائی گئی ہے : لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ۔ اٖلٰفِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَالصَّیْفِ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ہٰذَا الْبَیْتِ۔ الَّذِیْٓ اَطْعَمَہُمْ مِّنْ جُوْعٍلا وَّاٰمَنَہُمْ مِّنْ خَوْفٍ ”قریش کو مانوس کرنے کے لیے ! انہیں سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے مانوس کرنے کے لیے ! پس انہیں چاہیے کہ وہ اس سب کچھ کے شکر میں اس گھر کے رب کی بندگی کریں ‘ جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا ‘ اور خوف میں امن بخشا۔“مگر اس سب کچھ کے باوجود انہوں نے نا شکری کی انتہا کردی۔ انہوں نے اللہ کی بندگی کے بجائے بت پرستی اختیار کی اور بیت اللہ کو توحید کا مرکز بنانے کے بجائے اسے ُ بت خانے میں تبدیل کردیا۔ اس پس منظر کو ذہن نشین کر کے آیت زیر نظر کا مطالعہ کیا جائے تو سیاق وسباق بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ وہ خائن اور ناشکرے لوگ کون ہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved