آیت 24 یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیْہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَاَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”شَھِدَکے بعد جب عَلٰی آتا ہے تو یہ کسی کے خلاف شہادت دینے کا مفہوم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے حوالے سے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ انسان کا جسم اور اس کے تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں۔ اگر وہ اپنے کسی عضو کو اللہ کی نافرمانی یا گناہ کے کسی کام میں استعمال کرتا ہے تو وہ عضو اپنی جگہ احتجاج تو کرتا ہے مگر انسان کی حکم عدولی نہیں کرتا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے تمام اعضاء کو اس کے تابع کر رکھا ہے۔ لیکن قیامت کے دن یہ اعضاء اس طرح انسان کے تابع نہیں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے خلاف گواہ بن کر اس کے گناہوں کی ایک ایک تفصیل کے بارے میں بتائیں گے۔