خواتین کے سلسلہ میں اسلام کے احکام دو پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وہ جس کا عنوان ستر ہے اور دوسرے وہ جس کا عنوان حجاب ہے۔ ستر کا تعلق جسم کے پردہ سے ہے۔ یعنی عورت خواہ گھر کے اندر ہو یا گھر کے باہر، اس کو اپنے بدن کا کون سا حصہ، کس کے سامنے اور کن حالات میں کھلا رکھنا جائز ہے اور کب کھلا رکھنا جائز نہیں۔
حجاب کا تعلق باہر کے پردہ سے ہے، یعنی اس مسئلہ سے کہ شریعت نے عورت کوکن حالات میں گھر سے باہر نکلنے اور سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان آیات میں بنیادی طورپر ستر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حجاب کا مسئلہ آگے سورہ احزاب میں ہے۔
’’اے مومنو تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ دلوں کے اندر اس کی آمادگی ہو۔ صحابہ اور صحابیات اس معاملہ میں آخری معیاری درجہ پر تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے خداکی کتاب کی تصدیق اور اس کے احکام پر ایمان کے معاملہ میں انصار کی عورتوں سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ جب سورہ نور کی آیت (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ) اتری تو ان کے مرد اپنے گھروں کی طرف لوٹے۔ انھوں نے اپنی عورتوں اور لڑکیوں اور بہنوں کو وہ حکم سنایا جو خدانے ان کے ليے اتارا تھا۔ پس انصار کی عورتوں میں سے ہر عورت فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کسی نے اپنی کمر پٹی کھول کر اور کسی نے اپنی چادر لے کر اس کا دوپٹہ بنایا اور اس کو اوڑھ لیا۔ اگلے دن صبح کی نماز انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی تو دوپٹہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ان کے سروں پر کوّے ہوں (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 14406)۔