مکہ کے لوگ اس زمانہ میں عرب کے قائد سمجھے جاتے تھے۔ یہ قیادت ان کے ليے خدا کی ایک نعمت تھی۔ مگر اس سے انھوں نے کبر کی غذا لی۔ چنانچہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حق کا اعلان ہوا تو انھوںنے اپنی متکبرانہ نفسیات کی بنا پر اس کا انکار کردیا۔
یہ مکہ میں اسلام کا حال تھا۔ مگر باہر کي عوام جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہ تھي ان کے اندر اسلام کی صداقت پھیلتی جارہی تھی۔ مکہ میں اسلام کو رد کردیا گیا تھا مگر باہر کے قبائل میں اسلام کو اختیار کیا جارہا تھا۔ مدینہ کے باشندوں کے بڑے پیمانے پر قبولِ اسلام نے یہ بات آخری طورپر واضح کردی کہ مکہ كے لوگوں کی قیادت کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی تنبیہ تھی۔ مگر جو لوگ بڑائی کی نفسیات میں مبتلا ہوں وہ کسی بھی تنبیہ سے سبق لینے والے نہیں بنتے۔