اسلام سے پہلے عرب کا معاشرہ ایک آزاد معاشرہ تھا۔ وہاں کسی قسم کی کوئی پابندی نہ تھی۔ اس کے بعد اسلام نے گھروں کے اندر جانے پر پردہ کی پابندیاں عائد کیں جن کا بیان اوپر کی آیتوں میں ہے، تو کچھ لوگوں کو احساس ہوا کہ ان پابندیوں کے بعد ہماری سماجی زندگی بالکل محدود ہو کر رہ جائے گی۔
اس سلسلہ میں یہ وضاحتی آیتیں نازل ہوئیں۔ فرمایا کہ یہ پابندیاں تمھاری سماجی زندگی کو منظم کرنے کے لیے ہیں، نہ کہ تمہاری آزادی کو ختم کرنے کے لیے۔ مثلاً اندھے، لنگڑے اور بیمار اگر اپنے تعلق کے لوگوں سے دورہوجائیں تو یہ عملاً ان کو بے سہارا کردینے کے ہم معنیٰ ہوگا۔ مگر اسلام کا یہ منشا ہر گز نہیں۔ چنانچہ سابقہ احکام میں ضروری گنجائشیں دیتے ہوئے اس کی اصل روح کی نشان دہی فرمادی۔
ارشاد ہوا کہ اسلام کا اصل مطلوب یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی سچی خیر خواہی ہو۔ جب ایک آدمی دوسرے کے گھر میں داخل ہو تو وہ سلام کرے۔ اور کہے کہ ’’تمھارے اوپر سلامتی ہو اور اللہ کی برکتیں تمھارے اوپر نازل ہوں‘‘۔ یہ روح اگر حقیقی طورپر لوگوں کے اندر موجود ہو تو اکثر اجتماعی خرابیوں کا اپنے آپ خاتمہ ہوجائے گا۔