جب کچھ لوگ اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ وابستہ کریں تو مختلف اسباب سے بار بار اس کي ضرورت پیش آتی ہے کہ انھیں اكٹھا کیا جائے۔ مثلاً مسلمانوں کے کسی مشترک معاملہ میں مشورہ کرنے کے ليے، کسی اجتماعی مہم پر لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کے ليے، وغیرہ۔
ایسے مواقع پر یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں پر اپنے انفرادی تقاضے غالب ہوں وہ تھوڑی دیر کے بعد اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے جائیں۔ یہ مزاج صحیح اسلامی مزاج نہیں۔ تاہم جو لوگ اس ذہنیت سے پاک ہوں ان میں بھی بعض ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو کسی وقتی ضرورت کی بنا پر اجتماع کے ختم ہونے سے پہلے اٹھنا چاہیں۔ ایسے افراد کا طریقہ یہ ہوتاہے کہ وہ ذمہ دار شخصیت سے (اور رسول کے زمانہ میں رسول سے) باقاعدہ اجازت لے کر اواپس جاتے ہیں۔ نیز اگر ذمہ دار انھیں کسی وجہ سے اجازت نہ دے تو وہ کسی ناگواری کے بغیر آخر وقت تک کارروائی میں شریک رہتے ہیں۔
جو شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا ذمہ دار ہو اس کے اندر یہ مزاج ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اگر وقتی ضرورت کی بناپر معذرت پیش کرے تو وہ اس کی معذرت کو دل سے قبول کرے۔ اور اس کے حق میں دعا کرے که اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرمائے۔