آیت 31 وَاَنْ اَلْقِ عَصَاکَ ط ”قرآن میں اس واقعہ سے متعلق مختلف تفصیلات مختلف مقامات پر ملتی ہیں۔فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”اس واقعہ کے حوالے سے سورة النمل میں بھی ان سے ملتے جلتے الفاظ آئے ہیں۔یٰمُوْسٰٓی اَقْبِلْ وَلَا تَخَفْقف اِنَّکَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ ”تم بالکل امن وامان میں رہو گے اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔