Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
28:45
ولاكنا انشانا قرونا فتطاول عليهم العمر وما كنت ثاويا في اهل مدين تتلو عليهم اياتنا ولاكنا كنا مرسلين ٤٥
وَلَـٰكِنَّآ أَنشَأْنَا قُرُونًۭا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ ٱلْعُمُرُ ۚ وَمَا كُنتَ ثَاوِيًۭا فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِنَا وَلَـٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ ٤٥
وَلَٰكِنَّآ
أَنشَأۡنَا
قُرُونٗا
فَتَطَاوَلَ
عَلَيۡهِمُ
ٱلۡعُمُرُۚ
وَمَا
كُنتَ
ثَاوِيٗا
فِيٓ
أَهۡلِ
مَدۡيَنَ
تَتۡلُواْ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَٰتِنَا
وَلَٰكِنَّا
كُنَّا
مُرۡسِلِينَ
٤٥
But We ˹later˺ raised ˹several˺ generations, and the ages took their toll on them.1 Nor were you living among the people of Midian, rehearsing Our revelations with them. But it is We Who have sent ˹this revelation to you˺.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 28:44 to 28:47
دلیل نبوت ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ” ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض نا آشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گزشتہ تاریخ سے بالکل بے خبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کامل فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گزشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے “۔

مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت «ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ» [3-آل عمران:44] ‏، ” جب کہ وہ مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کر رہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے “۔

پس باوجود عدم موجودگی اور بے خبری کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں۔

اسی طرح نوح نبی علیہ السلام کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت «تِلْكَ مِنْ اَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ» [11-ھود:49] ‏، ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بے خبر تھی۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں “۔

سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے «ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ» [12-يوسف:102] ‏ کہ ” یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کر لیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے “۔

سورۃ طہٰ میں عام طور پر فرمایا آیت «كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا» [20-طه:99] ‏ ” اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں “۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ ” تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم علیہ السلام سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سب معلومات کرائیں “۔

تا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل ہو جائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آ رہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہو چکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی۔

نسائی شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کر چکا ۔

مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بنا کر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ» [26-الشعراء:10] ‏ ” جبکہ تیرے پروردگار نے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی “ اور آیت «ذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى» [79-النازعات:16] ‏ میں ہے کہ ” وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا “۔

اور آیت میں ہے «وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا» [19-مريم:52] ‏ کہ ” طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا “۔

صفحہ نمبر6591

پھر فرماتا ہے کہ ” ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا، کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں “۔

اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ «أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَىٰ مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءَكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللَّـهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يَصْدِفُونَ» [6-الأنعام:156،157] ‏ ” یہ اس لیے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقیناً ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آ جاتے۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت و رحمت آ چکی “۔

اور آیت «رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّـهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا» [ 4-النساء: 165 ] ‏ میں ہے ” رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے “۔

اور آیت میں فرمایا «يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ» [5-المائدة:19] ‏، ” اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آ رہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آ چکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آ پہنچا “۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہو جاتے۔

صفحہ نمبر6592
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved