Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
2:142
۞ سيقول السفهاء من الناس ما ولاهم عن قبلتهم التي كانوا عليها قل لله المشرق والمغرب يهدي من يشاء الى صراط مستقيم ١٤٢
۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ ٱلَّتِى كَانُوا۟ عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ ٱلْمَشْرِقُ وَٱلْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ ١٤٢
۞ سَيَقُولُ
ٱلسُّفَهَآءُ
مِنَ
ٱلنَّاسِ
مَا
وَلَّىٰهُمۡ
عَن
قِبۡلَتِهِمُ
ٱلَّتِي
كَانُواْ
عَلَيۡهَاۚ
قُل
لِّلَّهِ
ٱلۡمَشۡرِقُ
وَٱلۡمَغۡرِبُۚ
يَهۡدِي
مَن
يَشَآءُ
إِلَىٰ
صِرَٰطٖ
مُّسۡتَقِيمٖ
١٤٢
The foolish among the people will ask, “Why did they turn away from the direction of prayer they used to face?”1 Say, ˹O Prophet,˺ “The east and west belong ˹only˺ to Allah. He guides whoever He wills to the Straight Path.”
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

دو ‘ رکوعوں پر مشتمل تمہید کے بعد اب تحویل قبلہ کا مضمون براہ راست آرہا ہے ‘ جو پورے دو رکوعوں پر پھیلا ہوا ہے۔ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ کون سی ایسی بڑی بات تھی جس کے لیے قرآن مجید میں اتنے شدومدّ کے ساتھ اور اس قدر تفصیل بلکہ تکرار کے ساتھ بات کی گئی ہے ؟ اس کو یوں سمجھئے کہ ایک خاص مذہبی ذہنیت ہوتی ہے ‘ جس کے حامل لوگوں کی توجہّ اعمال کے ظاہر پر زیادہ مرکوز ہوجاتی ہے اور اعمال کی روح ان کی توجہ کا مرکز نہیں بنتی۔ عوام الناس کا معاملہ بالعموم یہی ہوجاتا ہے کہ ان کے ہاں اصل اہمیت دین کے ظواہر اور مراسم عبودیت کو حاصل ہوجاتی ہے اور جو اصل روح دین ہے ‘ جو مقاصد دین ہیں ‘ ان کی طرف توجہّ نہیں ہوتی۔ نتیجتاً ظواہر میں ذرا سا فرق بھی انہیں بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کی مثال یوں سامنے آتی ہے کہ احناف کی مسجد میں اگر کسی نے رفع یدین کرلیا یا کسی نے آمین ذرا اونچی آواز میں کہہ دیا تو گویا قیامت آگئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے ہماری مسجد میں کوئی اور ہی آگیا۔ اس مذہبی ذہنیت کے پس منظر میں یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں تھا۔اس کے علاوہ یہ مسئلہ قبائلی اور قومی پس منظر کے حوالے سے بھی سمجھنا چاہیے۔ مکہ مکرمہ میں جو لوگ ایمان لائے تھے ظاہر ہے ان سب کو خانہ کعبہ کے ساتھ بڑی عقیدت تھی۔ خود نبی اکرم ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ روتے ہوئے وہاں سے نکلے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اے کعبہ ! مجھے تجھ سے بڑی محبت ہے ‘ لیکن تیرے یہاں کے رہنے والے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب تک آپ ﷺ مکہ میں تھے تو آپ ﷺ ‘ کعبہ کی جنوبی دیوار کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوتے۔ یوں آپ ﷺ ‘ کا رخ شمال کی طرف ہوتا ‘ کعبہ آپ ﷺ کے سامنے ہوتا اور اس کی سیدھ میں بیت المقدس بھی آجاتا۔ اس طرح استقبال القبلتین کا اہتمام ہوجاتا۔ لیکن مدینہ میں آکر آپ ﷺ نے رخ بدل دیا اور بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ یہاں استقبال القبلتین ممکن نہ تھا ‘ اس لیے کہ یروشلم مدینہ منورہ کے شمال میں ہے ‘ جبکہ مکہ مکرمہ جنوب میں ہے۔ اب اگر خانہ کعبہ کی طرف رخ کریں گے تو یروشلم کی طرف پیٹھ ہوگی اور یروشلم کی طرف رخ کریں گے تو کعبہ کی طرف پیٹھ ہوگی۔ چناچہ اب اہل ایمان کا امتحان ہوگیا کہ آیا وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی پیروی کرتے ہیں یا اپنی پرانی عقیدتوں اور پرانی روایات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جو لوگ مکہ مکرمہ سے آئے تھے ان کی اتنی تربیت ہوچکی تھی کہ ان میں سے کسی کے لیے یہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بقول اقبال : ؂بمصطفیٰ ﷺ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی است !حالانکہ قرآن مجید میں کہیں منقول نہیں ہے کہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہوسکتا ہے یہ حکم وحئ خفی کے ذریعے سے دیا گیا ہو ‘ تاہم وحئ جلی میں یہ حکم کہیں نہیں ہے کہ اب یروشلم کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیے۔ یہ مسلمانوں کا اتباع رسول ﷺ کے حوالے سے ایک امتحان تھا جس میں وہ سرخرو ہوئے۔ پھر جب یہ حکم آیا کہ اپنے رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو تو یہ اب ان مسلمانوں کا امتحان تھا جو مدینہ کے رہنے والے تھے۔ اس لیے کہ ان میں سے بعض یہودیت ترک کر کے ایمان لائے تھے۔ مثلاً عبداللہ بن سلام رض علماء یہود میں سے تھے ‘ لیکن جو اور دوسرے لوگ تھے وہ بھی علماء یہود کے زیراثر تھے اور ان کے دل میں بھی یروشلم کی عظمت تھی۔ اب جب انہیں بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہوا تو یہ ان کے ایمان کا امتحان ہوگیا۔ مزید برآں بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی پیدا ہوا ہوگا کہ اگر اصل قبلہ بیت اللہ تھا تو ہم نے اب تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے جو نمازیں پڑھی ہیں ان کا کیا بنے گا ؟ کیا وہ نمازیں ضائع ہوگئیں ؟ نماز تو ایمان کا رکن رکین ہے ! چناچہ اس اعتبار سے بھی بڑی تشویش پیدا ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ایک مسئلہ سیاسی اعتبار سے یہ پیدا ہوا کہ یہود اب تک یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمانوں اور محمد ﷺ نے ہمارا قبلہ اختیار کرلیا ہے ‘ تو یہ گویا ہمارے ہی پیروکار ہیں ‘ لہٰذا ہمیں ان کی طرف سے کوئی خاص اندیشہ نہیں ہے۔ لیکن اب جب تحویل قبلہ کا حکم آگیا تو ان کے کان کھڑے ہوگئے کہ یہ تو کوئی نئی ملتّ ہے اور ایک نئی امت کی تشکیل ہو رہی ہے۔ چناچہ ان کی طرف سے مخالفت کے اندر شدت پیدا ہوگئی۔ یہ سارے مضامین یہاں پر زیر بحث آ رہے ہیں۔آیت 142 سَیَقُوْلُ السُّفَہَآءُ مِنَ النَّاسِ مَاوَلّٰٹہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمُ الَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْہَاط ؟ یعنی سولہ سترہ مہینے تک انہوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے ‘ اب انہیں بیت اللہ کی طرف کس چیز نے پھیر دیا ؟ قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ط یہ وہی الفاظ ہیں جو چودہویں رکوع میں تحویل قبلہ کی تمہید کے طور پر آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایک سمت میں محدود نہیں ہے ‘ بلکہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب اسی کے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved