Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
2:180
كتب عليكم اذا حضر احدكم الموت ان ترك خيرا الوصية للوالدين والاقربين بالمعروف حقا على المتقين ١٨٠
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا ٱلْوَصِيَّةُ لِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ ١٨٠
كُتِبَ
عَلَيۡكُمۡ
إِذَا
حَضَرَ
أَحَدَكُمُ
ٱلۡمَوۡتُ
إِن
تَرَكَ
خَيۡرًا
ٱلۡوَصِيَّةُ
لِلۡوَٰلِدَيۡنِ
وَٱلۡأَقۡرَبِينَ
بِٱلۡمَعۡرُوفِۖ
حَقًّا
عَلَى
ٱلۡمُتَّقِينَ
١٨٠
It is prescribed that when death approaches any of you—if they leave something of value—a will should be made in favour of parents and immediate family with fairness.1 ˹This is˺ an obligation on those who are mindful ˹of Allah˺.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 2:178 to 2:182

قتل کے معاملہ میں اسلام میں قصاص کا اصول مقرر کیا گیاہے۔ یعنی قاتل کے ساتھ وہی کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے۔ اس طرح ایک طرف آئندہ کے لیے قتل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ کیوں کہ اپنی جان کا خوف آدمی کو دوسرے کی جان لینے سے روکتا ہے اور نتیجۃً سب کی جانیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ قاتل کے قتل سے پورے معاشرہ کے لیے زندگی کی ضمانت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف مقتول کے ورثا کا انتقامی جذبہ ٹھنڈا ہو کر سماج میں کسی نئی تخریبی کارروائی کے امکان کو ختم کردیتاہے۔ تاہم قصاص کا معاملہ اسلام میں قابل راضی نامہ ہے۔ يعني مقتول کے ورثاء چاہیں تو قاتل کو قتل کرسکتے ہیں، چاہیں تو دیت (مالی معاوضہ) لے سکتے ہیں اور چاہیں تو معاف کرسکتے ہیں۔ اس گنجائش کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میںایک دوسرے کو بھائی سمجھنے کی فضا باقی رہے، ایک دوسرے کو حریف سمجھنے کی فضا کسی حال میں پیدا نہ ہو۔ نیز خون بہا کے اصول کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے مقتول کے وارثوں کو اپنے چلے جانے والے فردِ خاندان کا ایک مالی بدل مل جاتا ہے۔

جب کوئی مرجاتا ہے تو یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتاہے کہ اس کی وراثت کا كيا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں اسلام کااصول یہ ہے کہ اس کی وراثت کو اس کے رشتہ داروں میں معروف طریقہ سے تقسیم کردیا جائے۔ یہ گویا مال کا تقویٰ ہے۔ جب مرنے والوں کے رشتہ داروں تک حصہ بحصہ اس کا چھوڑا ہوا مال پہنچ جائے تو اس سے معاشرہ میں یہ فضا بنتی ہے کہ ازروئے حق جس کو جو دیا جانا چاہيے وہ دیا جاچکا ہے۔ اس طرح خاندان کے اندر متروکہ مال یا جائداد کے حصول کے لیے باہمی نزاع پیدا نہیں ہوتی، خاندان کا جوشخص قانونی اعتبار سے وارث نہ قرار پاتا ہو، مگر اخلاقی اعتبارسے وہ مستحق ہو تو مرنے والے کو چاہيے کہ وصیت کے ذریعہ اس خلا کو پُر کردے۔ (یہاں وراثت کے بارے میں معروف کے مطابق وصیت کرنے کا حکم ہے۔ آگے سورہ النساء میں ہر ایک کے حصہ کو قانونی طورپر معین کردیاگیا ہے)

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved