Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
2:239
فان خفتم فرجالا او ركبانا فاذا امنتم فاذكروا الله كما علمكم ما لم تكونوا تعلمون ٢٣٩
فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًۭا ۖ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا۟ تَعْلَمُونَ ٢٣٩
فَإِنۡ
خِفۡتُمۡ
فَرِجَالًا
أَوۡ
رُكۡبَانٗاۖ
فَإِذَآ
أَمِنتُمۡ
فَٱذۡكُرُواْ
ٱللَّهَ
كَمَا
عَلَّمَكُم
مَّا
لَمۡ
تَكُونُواْ
تَعۡلَمُونَ
٢٣٩
If you are in danger, pray on foot or while riding. But when you are safe, ˹take time to˺ remember Allah for teaching you what you did not know.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 2:238 to 2:242

نماز گویا دین کا خلاصہ ہے۔ نماز مومنانہ زندگی کی وہ مختصر تصویر ہے جو پھیلتی ہے تو مکمل اسلامی زندگی بن جاتی ہے۔ یہاں ایک مختصر فقرہ میں نماز کے تین اہم ترین اجزاء کو بیان کردیا گیا ہے(1)نماز کا پانچ وقت کے لیے فرض ہونا۔2) (نماز کا ایک قابل اہتمام چیز ہونا۔(3)یہ بات کہ نماز کی اصل حقیقت عجز ہے۔

’’پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں میں ایک بیچ کی نماز ہے اور پھر اس کے دونوں طرف نمازیں ہیں۔ اس جملہ میں اطراف کی ’’نمازوں‘‘ سے کم از کم چار کا عدد مراد لینا ضروری ہے کیوں کہ عربی زبان میں صلوات (نمازوں) کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ پہلا ممکن عدد جس میں ’’نمازوں‘‘کے درمیان ایک ’’بیچ کی نماز‘‘ بن سکے چارہی ہے۔ اس طرح ایک نماز بیچ کی نماز ہو کر اس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہوجاتی ہے۔ ’’بیچ کی نماز‘‘ سے مراد عصر کی نماز ہے جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ نماز کے دوسرے پہلو کو بتانے کے لیے ’’محافظت‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ گویا نماز اسی طرح حفاظت کی ایک چیز ہے جس طرح مال آدمی کے لیے حفاظت کی چیز ہوتا ہے۔ نماز کے اوقات کا پورا لحاظ، اس کو بتائے ہوئے طریقہ پر ادا کرنے کا اہتمام، ایسی چیزوں سے بالقصد پرہیز جو آدمی کی نماز میں کوئی خرابی پیدا کرنے والی ہوں وغیرہ، محافظت نماز میں شامل ہیں۔ نماز کا تیسرا پہلو عجز ہے۔ یہ نماز کی اصل روح ہے، نماز بندے کا اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس ليے ضروری ہے کہ نماز کے وقت آدمی کے اوپر وہ کیفیت طاری ہو جو سب سے بڑے کے آگے کھڑے ہونے کی صورت میں سب سے چھوٹے کے اوپر طاری ہوتی ہے۔

معاشرت کے احکام بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’یہ حق ہے متقیوں کے اوپر‘‘ شریعت کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتاہے۔ باہمی معاملات میں کچھ حقوق وہ ہیں جن کو قانون نے متعین کردیا ہے۔ مگر ایک آدمی پر دوسرے کے حقوق کی حدیں یہیں ختم نہیں ہوجاتیں۔ متعین حقوق کے علاوہ بھی کچھ حقوق ہیں۔ یہ حقوق وہ ہیں جن کو آدمی کا تقویٰ اس کو محسوس کراتاہے۔ اور آدمی کا متقیانہ احساس جتنا شدید ہو اتنا ہی زیادہ وہ اس کو اپنے اوپر لازم سمجھتا ہے۔ اندر کا یہ زوراگر موجود نہ ہو تو آدمی کبھی صحیح طورپر د وسروں کے حقوق ادا نہیں کرسکتا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved