Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
2:258
الم تر الى الذي حاج ابراهيم في ربه ان اتاه الله الملك اذ قال ابراهيم ربي الذي يحيي ويميت قال انا احيي واميت قال ابراهيم فان الله ياتي بالشمس من المشرق فات بها من المغرب فبهت الذي كفر والله لا يهدي القوم الظالمين ٢٥٨
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِى حَآجَّ إِبْرَٰهِـۧمَ فِى رَبِّهِۦٓ أَنْ ءَاتَىٰهُ ٱللَّهُ ٱلْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ رَبِّىَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا۠ أُحْىِۦ وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَٰهِـۧمُ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَأْتِى بِٱلشَّمْسِ مِنَ ٱلْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ ٱلْمَغْرِبِ فَبُهِتَ ٱلَّذِى كَفَرَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٢٥٨
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَى
ٱلَّذِي
حَآجَّ
إِبۡرَٰهِـۧمَ
فِي
رَبِّهِۦٓ
أَنۡ
ءَاتَىٰهُ
ٱللَّهُ
ٱلۡمُلۡكَ
إِذۡ
قَالَ
إِبۡرَٰهِـۧمُ
رَبِّيَ
ٱلَّذِي
يُحۡيِۦ
وَيُمِيتُ
قَالَ
أَنَا۠
أُحۡيِۦ
وَأُمِيتُۖ
قَالَ
إِبۡرَٰهِـۧمُ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
يَأۡتِي
بِٱلشَّمۡسِ
مِنَ
ٱلۡمَشۡرِقِ
فَأۡتِ
بِهَا
مِنَ
ٱلۡمَغۡرِبِ
فَبُهِتَ
ٱلَّذِي
كَفَرَۗ
وَٱللَّهُ
لَا
يَهۡدِي
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
٢٥٨
Are you ˹O Prophet˺ not aware of the one who argued with Abraham about his Lord because Allah had granted him kingship? ˹Remember˺ when Abraham said, “My Lord is the One Who has power to give life and cause death.” He argued, “I too have the power to give life and cause death.” Abraham challenged ˹him˺, “Allah causes the sun to rise from the east. So make it rise from the west.” And so the disbeliever was dumbstruck. And Allah does not guide the wrongdoing people.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

موجودہ زمانہ میں عوامی تائید سے حکومت کا استحقاق حاصل ہوتاہے۔ مگر جمہوریت کے دورسے پہلے اکثر بادشاہ لوگوں کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ خدا کا انسانی پیکر ہیں۔ قدیم عراق کے بادشاہ نمرود کا معاملہ یہی تھا جو حضرت ابراہیم کا ہم عصر تھا۔ اس کی قوم سورج کو دیوتاؤں کا سردار مانتی تھی۔ اور اس کی پوجا کرتی تھی۔ نمرود نے کہا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس ليے وہ لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا خدائی حق رکھتاہے۔ حضرت ابراہیم نے اس وقت کے عراق میں جب توحید کی آواز بلند کی تو اس کا سیاست وحکومت سے براہِ راست کوئی تعلق نہ تھا۔ آپ لوگوں سے صرف یہ کہہ رہے تھے کہ تمھارا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے۔ کوئی نہیں جو خدائی میں اس کا شریک ہو۔ اس ليے تم اسی کی عبادت کرو۔ اسی سے ڈرو اور اسی سے امیدیں قائم کرو۔ تاہم اس غیر سیاسی دعوت میں نمرود کو اپنی سیاست پرزد پڑتی ہوئی نظر آئی۔ ایسا عقیدہ جس میں سورج کو ایک بے زورمخلوق بتایا گیا ہو وہ گویا اس اعتقادی بنیاد ہی کو ڈھا رہا تھا جس کے اوپر نمرود نے اپنا سیاسی تخت بچھا رکھا تھا۔اس وجہ سے وہ آپ کا دشمن ہوگیا۔

حضرت ابراہیم نے نمرود سے جو گفتگو کی اس سے انبیاء کا طریقِ دعوت معلوم ہوتا ہے۔ نمرود کے سوال کے جواب میں آنجناب نے فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے۔ نمرود نے مناظرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ موت اور زندگی پر تو میں بھی اختیار رکھتا ہوں۔ جس کو چاہوں مروادوں اور جس کو چاہوں زندہ رہنے دوں۔ آنجناب نمرود کا جواب دے سکتے تھے۔ مگر آپ نے گفتگو کو مناظرہ بنانا پسند نہ کیا۔ اس ليے آپ نے فوراً دوسری مثال پیش کردی جس کے جواب میں نمرود اس قسم کی بات نہ کہہ سکتا تھا جو اس نے پہلی مثال کے جواب میں کہی۔ حضرت ابراہیم کے لیے نمرود حریف نہ تھا۔ بلکہ مدعو کی حیثیت رکھتا تھا اس ليے ان کو یہ سمجھنے میںدیر نہ لگی کہ استدلال کا کون سا حکیمانہ انداز ان کو اختیار کرنا چاہيے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس ليے اس کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ ایک هی چیز کو آدمی دو مختلف معنوں میں لے سکے۔ مثلاً ایک شخص کے پاس دولت اور اقتدار آجائے تو وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھ سکتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ نظر آئے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ایسے رخ سے دیکھے کہ اس کو محسوس ہو کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ سراسر خدا کا انعام ہے۔ پہلی صورت ظلم کی صورت ہے، اور دوسری شکر کی صورت۔ جس شخص کے اندر ظالمانہ مزاج ہو اس کے لیے موجودہ دنیا صرف گمراہی کی خوراک ہوگی۔ اس کو ہر واقعہ میں گھمنڈ اور خود پسندی کی غذا ملے گی۔ اس کے برعکس، جس کے اندر شکر کا مزاج ہوگا، اس کے لیے ہر واقعہ میں ہدایت کا سامان ہوگا۔ خدا کی دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اس کے لیے رزق ایمانی کا دستر خوان بن جائے گی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved