Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
2:274
الذين ينفقون اموالهم بالليل والنهار سرا وعلانية فلهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٢٧٤
ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٢٧٤
ٱلَّذِينَ
يُنفِقُونَ
أَمۡوَٰلَهُم
بِٱلَّيۡلِ
وَٱلنَّهَارِ
سِرّٗا
وَعَلَانِيَةٗ
فَلَهُمۡ
أَجۡرُهُمۡ
عِندَ
رَبِّهِمۡ
وَلَا
خَوۡفٌ
عَلَيۡهِمۡ
وَلَا
هُمۡ
يَحۡزَنُونَ
٢٧٤
Those who spend their wealth in charity day and night, secretly and openly—their reward is with their Lord, and there will be no fear for them, nor will they grieve.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

اب ہم اس سورة مبارکہ کا جو رکوع پڑھ رہے ہیں یہ آج کے حالات میں اہم ترین ہے۔ یہ رکوع سود کی حرمت اور شناعت پر قرآن حکیم کا انتہائی اہم مقام ہے۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کی سب سے بڑی صورت تو غیر اللہ کی حاکمیت کا تصور ہے ‘ جو سب سے بڑا شرک ہے۔ اگرچہ نفسیاتی اور داخلی اعتبار سے سب سے بڑا شرک مادّے پر توکلّ ہے ‘ لیکن خارجی اور واقعاتی دنیا میں اس وقت سب سے بڑا شرک غیر اللہ کی حاکمیت ہے ‘ جو اب عوامی حاکمیت کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ اس کے بعد اس وقت کے گناہوں اور بدعملی میں سب سے بڑا فتنہ اور فساد سود کی بنیاد پر ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے بڑی شیطنت جو یہودیوں کے ذریعے سے پورے کرۂ ارضی کو اپنی گرفت میں لینے کے لیے بےتاب ہے ‘ وہ یہی سود کا ہتھکنڈا ہے۔ یہاں اس کی حرمت دو ٹوک انداز میں بیان کردی گئی۔ اس مقام پر میرے ذہن میں کبھی کبھی ایک سوال پیدا ہوتا تھا کہ اس رکوع کی پہلی آیت کا تعلق تو انفاق فی سبیل اللہ سے ہے ‘ لہٰذا اسے پچھلے رکوع کے ساتھ شامل ہونا چاہیے تھا ‘ لیکن بعد میں یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہوئی کہ اس آیت کو بڑی حکمت کے ساتھ اس رکوع کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ وہ حکمت میں بعد میں بیان کروں گا آیت 274 اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّعَلاَنِیَۃً صدقات واجبہ علانیہ اور صدقات نافلہ خفیہ طور پر دیتے ہیں۔فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْج وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ اس کے برعکس معاملہ ان کا ہے جو سود کھاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے ؟ اصل مسئلہ ہے قدر زائد surplus value کا ! آپ کا کوئی شغل ہے ‘ کوئی کاروبار ہے یا ملازمت ہے ‘ آپ کما رہے ہیں ‘ اس سے آپ کا خرچ پورا ہو رہا ہے ‘ کچھ بچت بھی ہو رہی ہے۔ اب اس بچت کا اصل مصرف کیا ہے ؟ آیت 219 میں ہم پڑھ آئے ہیں : وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ط قُلِ الْعَفْوَ ط لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دیجیے جو بھی زائد از ضرورت ہو ! چناچہ اصل راستہ تو یہ ہے کہ اپنی بچت کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔ یا محتاجوں کو دے دو یا اللہ کے دین کی نشرو اشاعت اور سربلندی میں لگا دو۔ لیکن سود خورانہ ذہنیت یہ ہے کہ اس بچت کو بھی مزید کمائی کا ذریعہ بناؤ۔ لہٰذا اصل میں سود خوری انفاق فی سبیل اللہ کی ضد ہے۔ یہ عقدہ مجھ پر اس وقت کھلا جب میں نے اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہٗ بَعْضًا کے اصول کے تحت سورة الروم کی آیت 39 کا مطالعہ کیا۔ وہاں بھی ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لایا گیا ہے ‘ اللہ کی رضا جوئی کے لیے انفاق اور اس کے مقابلے میں ربا ‘ یعنی سود پر رقم دینا۔ فرمایا : وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَا فِیْ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج اور جو مال تم دیتے ہو سود پر تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر بڑھ جائے تو وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔ محنت کوئی کر رہا ہے اور آپ اس کی کمائی میں سے اپنے سرمائے کی وجہ سے وصول کر رہے ہیں تو آپ کا مال اس کے مال میں شامل ہو کر اس کی محنت سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں اس کی بڑھوتری نہیں ہوتی۔ وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ اور وہ جو تم زکوٰۃ اور صدقات میں دے دیتے ہو محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے تو یہی لوگ اپنے مال اللہ کے ہاں بڑھا رہے ہیں۔ ان کا مال مسلسل بڑھ رہا ہے ‘ اس کی بڑھوتری ہو رہی ہے۔ چناچہ انفاق فی سبیل اللہ اور صدقات و زکوٰۃ وغیرہ کا معاملہ سود کے بالمقابل اور اس کے برعکس ہے۔ اپنے اس بچت کے مال کو یا تو کوئی اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا یا پھر سودی منافع حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے گا۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ آج کے بینکنگ کے نظام میں سب سے زیادہ زور بچت saving پر دیا جاتا ہے اور اس کے لیے سیونگ اکاؤنٹ اور بہت سی پرکشش منافع بخش سکیمیں متعارف کرائی جاتی ہیں۔ ان کی طرف سے یہی ترغیب دی جاتی ہے کہ بچت کرو مزید کمانے کے لیے ! بچت اس لیے نہیں کہ اپنا پیٹ کاٹو اور غرباء کی ضروریات پوری کرو ‘ اپنا معیار زندگی کم کرو اور اللہ کے دین کے لیے خرچ کرو۔ نہیں ‘ بلکہ اس لیے کہ جو کچھ تم بچاؤ وہ ہمیں دو ‘ تاکہ وہ ہم زیادہ شرح سود پر دوسروں کو دیں اور تھوڑی شرح سود تمہیں دے دیں۔ چناچہ انفاق اور سود ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved