Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
2:50
واذ فرقنا بكم البحر فانجيناكم واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون ٥٠
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ ٱلْبَحْرَ فَأَنجَيْنَـٰكُمْ وَأَغْرَقْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ٥٠
وَإِذۡ
فَرَقۡنَا
بِكُمُ
ٱلۡبَحۡرَ
فَأَنجَيۡنَٰكُمۡ
وَأَغۡرَقۡنَآ
ءَالَ
فِرۡعَوۡنَ
وَأَنتُمۡ
تَنظُرُونَ
٥٠
And ˹remember˺ when We parted the sea, rescued you, and drowned Pharaoh’s people before your very eyes.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

آیت 50 وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ یہ ایک مختلف فیہ بات ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا آنے کے لیے کس سمندر یا دریا کو عبور کیا تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریائے نیل کو عبور کر کے گئے تھے ‘ لیکن یہ بات اس اعتبار سے غلط ہے کہ دریائے نیل تو مصر کے اندر بہتا ہے ‘ وہ کبھی بھی مصر کی حد نہیں بنا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ بحیرۂ قلزم Red Sea اوپر جا کر دو کھاڑیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ مشرق کی طرف خلیج عقبہ اور مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور ان کے درمیان جزیرہ نمائے سینا Sinai Peninsula ہے۔ یہ اسی طرح کی تکون ہے جیسے جزیرہ نمائے ہند Indian Peninsula ہے۔ خلیج سویز اور بحیرۂ روم کے درمیان کئی بڑی بڑی جھیلیں تھیں ‘ جن کو باہم جوڑ جوڑ کر ‘ درمیان میں حائل خشکی کو کاٹ کر نہر سویز بنائی گئی ہے ‘ جو اب ایک مسلسل رابطہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ مجھے خود بھی اسی رائے سے اتفاق ہے۔ اس لیے کہ کوہ طور اس جزیرہ نمائے سینا کی نوک tip پر واقع ہے ‘ جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چالیس دن رات کے لیے بلایا گیا اور پھر انہیں تورات دی گئی۔ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو اس طرح عبور کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کی ایک ضرب سے سمندر پھٹ گیا۔ ازروئے الفاظ قرآنی : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ الشُّعراء ”پس سمندر پھٹ گیا اور ہوگیا ہر حصہ جیسے بڑا پہاڑ“۔ سمندر کا پانی دونوں طرف پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا اور بنی اسرائیل اس کے درمیان میں سے نکل گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے جب فرعون اپنا لشکر لے کر آیا تو اس نے سوچا کہ ہم بھی ایسے ہی نکل جائیں گے ‘ لیکن وہ غرق ہوگئے۔ اس لیے کہ دونوں طرف کا پانی آپس میں مل گیا۔ یہ ایک معجزانہ کیفیت تھی اور یہ بات فطرت nature کے قوانین کے مطابق نہیں تھی۔فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ”“ تمہاری نگاہوں کے سامنے فرعون کے لاؤ لشکر کو غرق کردیا۔ بنی اسرائیل خلیج سویز سے گزر چکے تھے اور دوسری جانب کھڑے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ادھر سے فرعون اور اس کا لاؤ لشکر سمندر میں داخل ہوا تو پانی دونوں طرف سے آکر مل گیا اور یہ سب غرق ہوگئے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved