پیغمبر کی بیویوں کو معاشرہ میں ایک طرح کا قائدانہ مقام حاصل تھا۔ایسے لوگوں کو حق کے آگے جھکنے کےلیے اس سے زیادہ قربانی دینی پڑتی ہے جتنی ایک عام آدمی کو دینی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے دہرا انعام کا وعدہ فرمایا ہے۔ وہ عمل کرنے کےلیے دوسروں سے زیادہ قوت ارادی استعمال کرتے ہیں۔ اس ليے وہ اپنے عمل کی قیمت بھی دوسروں سے زیادہ پاتے ہیں۔
پیغمبر کی عورتوں کی اسی خصوصیت کی وجہ سے ان کاربط بار بار دوسروں سے قائم ہوتا تھا۔ لوگ دینی امور میں رہنمائی کےلیے ان کے پاس آتے تھے۔ اس ليے حکم دیاگیا کہ دوسروں سے بات کرو تو کسی قدر خشک انداز سے بات کرو۔ اس طرح بے تکلف انداز میں بات نہ کرو جس طرح ایک محرم رشتہ دار سے بات کی جاتی ہے۔