حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کا وقت آیا تو وہ اپنا عصا ٹیکے ہوئے تھے اور جنوں سے کوئی تعمیری کام کرارہے تھے۔ موت کے فرشتے نے آپ کی روح قبض کرلی۔ مگر آپ کا بے جان جسم عصا کے سہارے بدستور قائم رہا۔ جنات یہ سمجھ کر اپنے کام میں لگے رہے کہ آپ ان کے قریب موجودہیں اور نگرانی کررہے ہیں۔ اس کے بعد عصا میں دیمک لگ گئی۔ ایک عرصہ کے بعد دیمک نے عصا کو کھوکھلا کردیا تو آپ کا جسم زمین پر گر پڑا اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ آپ وفات پاچکے ہیں۔
یہ واقعہ اس صورت میں غالباً اس ليے پیش آیا تاکہ لوگوں کے اس غلط عقیدہ کی عملی تردید ہوجائے کہ جنّات غیب کا علم رکھتے ہیں۔