آیت 43 { وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات ‘ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے“ { وَقَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہواجھوٹ۔“ یعنی یہ قرآن دراصل محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے جس کو وہ وحی کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آگیا ‘ کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔“