آیت 53 { وَّقَدْ کَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ”اور پہلے تو انہوں نے اس کا کفر کیا تھا ‘ اور وہ اٹکل کے تیر ُ تکے ّچلاتے رہے بن دیکھے دور کی جگہ سے۔“ اپنی دنیا کی زندگی میں تو وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں کبھی کہتے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور یہ ان کا اپنا کلام ہے ‘ کبھی کہتے کہ انہوں نے گھر میں کوئی آدمی چھپا رکھا ہے جو انہیں یہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ کبھی کہتے کہ ان پر ِجن آگیا ہے۔ بہر حال جب ان کے سوچنے اور ایمان لانے کا موقع تھا اس وقت تو وہ قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا انکار کرتے رہے اور ان کے بارے میں بغیر کسی علمی اور عقلی دلیل کے یا وہ گوئی کرتے رہے۔ اب جبکہ حساب کی گھڑی آن پہنچی ہے تو اب ان کے ایمان لانے کا کیا فائدہ ؟