Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
48:29
محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم تراهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماهم في وجوههم من اثر السجود ذالك مثلهم في التوراة ومثلهم في الانجيل كزرع اخرج شطاه فازره فاستغلظ فاستوى على سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار وعد الله الذين امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفرة واجرا عظيما ٢٩
مُّحَمَّدٌۭ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَىٰهُمْ رُكَّعًۭا سُجَّدًۭا يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنًۭا ۖ سِيمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِى ٱلْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْـَٔهُۥ فَـَٔازَرَهُۥ فَٱسْتَغْلَظَ فَٱسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعْجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةًۭ وَأَجْرًا عَظِيمًۢا ٢٩
مُّحَمَّدٞ
رَّسُولُ
ٱللَّهِۚ
وَٱلَّذِينَ
مَعَهُۥٓ
أَشِدَّآءُ
عَلَى
ٱلۡكُفَّارِ
رُحَمَآءُ
بَيۡنَهُمۡۖ
تَرَىٰهُمۡ
رُكَّعٗا
سُجَّدٗا
يَبۡتَغُونَ
فَضۡلٗا
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَرِضۡوَٰنٗاۖ
سِيمَاهُمۡ
فِي
وُجُوهِهِم
مِّنۡ
أَثَرِ
ٱلسُّجُودِۚ
ذَٰلِكَ
مَثَلُهُمۡ
فِي
ٱلتَّوۡرَىٰةِۚ
وَمَثَلُهُمۡ
فِي
ٱلۡإِنجِيلِ
كَزَرۡعٍ
أَخۡرَجَ
شَطۡـَٔهُۥ
فَـَٔازَرَهُۥ
فَٱسۡتَغۡلَظَ
فَٱسۡتَوَىٰ
عَلَىٰ
سُوقِهِۦ
يُعۡجِبُ
ٱلزُّرَّاعَ
لِيَغِيظَ
بِهِمُ
ٱلۡكُفَّارَۗ
وَعَدَ
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَعَمِلُواْ
ٱلصَّٰلِحَٰتِ
مِنۡهُم
مَّغۡفِرَةٗ
وَأَجۡرًا
عَظِيمَۢا
٢٩
Muḥammad is the Messenger of Allah. And those with him are firm with the disbelievers1 and compassionate with one another. You see them bowing and prostrating2 ˹in prayer˺, seeking Allah’s bounty and pleasure. The sign ˹of brightness can be seen˺ on their faces from the trace of prostrating ˹in prayer˺. This is their description in the Torah.3 And their parable in the Gospel is that of a seed that sprouts its ˹tiny˺ branches, making it strong. Then it becomes thick, standing firmly on its stem, to the delight of the planters4—in this way Allah makes the believers a source of dismay for the disbelievers.5 To those of them who believe and do good, Allah has promised forgiveness and a great reward.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
تصدیق رسالت بزبان الہ ٭٭

ان آیتوں میں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان ہوئی کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں پھر آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفت و ثنا بیان ہو رہی ہے کہ وہ مخالفین پر سختی کرنے والے اور مسلمانوں پر نرمی کرنے والے ہیں جیسے اور آیت میں ہے «أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ» [5-المائدة:54] ‏ مومنوں کے سامنے نرم کفار کے مقابلہ میں گرم، ہر مومن کی یہی شان ہونی چاہیئے کہ وہ مومنوں سے خوش خلقی اور متواضع رہے اور کفار پر سختی کرنے والا اور کفر سے ناخوش رہے۔

قرآن حکیم فرماتا ہے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [9-التوبة:123] ‏ ” ایمان والو! اپنے پاس کے کافروں سے جہاد کرو، وہ تم میں سختی محسوس کریں “۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”آپس کی محبت اور نرم دلی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ اگر کسی ایک عضو میں درد ہو تو سارا جسم بےقرار ہو جاتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی نیند اچاٹ ہو جاتی ہے“ ۔ [صحیح بخاری:6011] ‏

صفحہ نمبر8638

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو تقویت پہنچاتا ہے اور مضبوط کرتا ہے، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ملا کر بتائیں“ ۔ [صحیح مسلم:2446] ‏

پھر ان کا اور وصف بیان فرمایا کہ نیکیاں بکثرت کرتے ہیں خصوصاً نماز جو تمام نیکیوں سے افضل و اعلیٰ ہے، پھر ان کی نیکیوں میں چار چاند لگانے والی چیز کا بیان یعنی ان کے خلوص اور رضائے اللہ طلبی کا کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کے متلاشی ہیں۔ یہ اپنے اعمال کا بدلہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں جو جنت ہے اور اللہ کے فضل سے انہیں ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی بھی انہیں عطا فرمائے گا جو بہت بڑی چیز ہے۔ جیسے فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» [9-التوبة:72] ‏ ” اللہ تعالیٰ کی ذرا سی رضا بھی سب سے بڑی چیز ہے۔ “

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چہروں پر سجدوں کے اثر سے علامت ہونے سے مراد اچھے اخلاق ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:370/11] ‏ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں خشوع اور تواضع ہے۔

صفحہ نمبر8639

منصور رحمہ اللہ مجاہد رحمہ اللہ سے کہتے ہیں میرا تو یہ خیال تھا کہ اس سے مراد نماز کا نشان ہے جو ماتھے پر پڑ جاتا ہے، آپ نے فرمایا یہ تو ان کی پیشانیوں پر بھی ہوتا ہے جن کے دل فرعون سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نماز ان کے چہرے اچھے کر دیتی ہے۔

بعض سلف سے منقول ہے جو رات کو بکثرت نماز پڑھے گا اس کا چہرہ دن کو خوبصورت ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ابن ماجہ کی ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ [سنن ابن ماجہ:1333،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے بعض بزرگوں کا قول ہے کہ نیکی کی وجہ سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے چہرے پر روشنی آتی ہے، روزی میں کشادگی ہوتی ہے، لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اندرونی پوشیدہ حالات کی اصلاح کرے اور بھلائیاں پوشیدگی سے کرے، اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کی سلوٹوں پر اور اس کی زبان کے کناروں پر ان نیکیوں کو ظاہر کر دیتا ہے الغرض دل کا آئینہ چہرہ ہے، جو اس میں ہوتا ہے اس کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے۔ پس مومن جب اپنے دل کو درست کر لیتا ہے، اپنا باطن سنوار لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی لوگوں کی نگاہوں میں سنوار دیتا ہے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کر لیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کو بھی آراستہ و پیراستہ کر دیتا ہے۔

صفحہ نمبر8640

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص جیسی بات کو پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اڑھا دیتا ہے اگر وہ پوشیدگی بھلی ہے تو بھلائی کی اور اگر بری ہے تو برائی کی“ ۔ [اسنادہ موضوع] ‏ لیکن اس کا ایک راوی عراقی متروک ہے۔

مسند احمد میں آپ کا فرمان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ٹھوس چٹان میں گھس کر جس کا نہ کوئی دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو کوئی عمل کرے گا، اللہ اسے بھی لوگوں کے سامنے رکھ دے گا برائی ہو تو یا بھلائی ہو تو“ ۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] ‏

مسند کی اور حدیث میں ہے نیک طریقہ، اچھا خلق، میانہ روی نبوت کے پچیسویں حصہ میں سے ایک حصہ ہے۔ [سنن ترمذي:2010،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر8641

الغرض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نیتیں خالص تھیں اعمال اچھے تھے پس جس کی نگاہ ان کے پاک چہروں پر پڑتی تھی اسے ان کی پاکبازی جچ جاتی تھی اور وہ ان کے چال چلن اور ان کے اخلاق اور ان کے طریقہ کار پر خوش ہوتا تھا۔

امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے شام کا ملک فتح کیا جب وہاں کے نصرانی ان کے چہرے دیکھتے تو بےساختہ پکار اٹھتے، اللہ کی قسم یہ عیسیٰ کے حواریوں سے بہت ہی بہتر و افضل ہیں۔ فی الواقع ان کا یہ قول سچا ہے، اگلی کتابوں میں اس امت کی فضیلت و عظمت موجود ہے اور اس امت کی صف اول ان کے بہتر بزرگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور خود ان کا ذکر بھی اگلی اللہ کی کتابوں میں اور پہلے کے واقعات میں موجود ہے۔ پس فرمایا یہی مثال ان کی توراۃ میں ہے۔

پھر فرماتا ہے اور ان کی مثال انجیل کی مانند کھیتی کے بیان کی گئی ہے جو اپنا سبزہ نکالتی ہے پھر اسے مضبوط اور قوی کرتی ہے پھر وہ طاقتور اور موٹا ہو جاتا ہے اور اپنی بال پر سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے اب کھیتی والے کی خوشی کا کیا پوچھنا ہے؟ اسی طرح اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے آپ کی تائید و نصرت کی پس وہ آپ کے ساتھ وہی تعلق رکھتے ہیں جو پٹھے اور سبزے کو کھیتی سے تھا یہ اس لیے کہ کفار شرمسار ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں کے کفر پر استدلال کیا ہے کیونکہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے چڑتے اور ان سے بغض رکھنے والا کافر ہے۔

علماء کی ایک جماعت بھی اس مسئلہ میں امام صاحب کے ساتھ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی کرنے میں بہت سی احادیث آئی ہیں خود اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریفیں بیان کیں اور ان سے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا ہے کیا ان کی بزرگی میں یہ کافی نہیں؟ پھر فرماتا ہے ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے گناہ معاف اور انکا اجر عظیم اور رزق کریم ثواب جزیل اور بدلہ کبیر ثابت یاد رہے کہ «منھم» میں جو «من» ہے وہ یہاں بیان جنس کے لیے ہے، اللہ کا یہ سچا اور اٹل وعدہ ہے جو نہ بدلے، نہ خلاف ہو ان کے قدم بقدم چلنے والوں، ان کی روش پر کاربند ہونے والوں سے بھی اللہ کا یہ وعدہ ثابت ہے لیکن فضیلت اور سبقت کمال اور بزرگی جو انہیں ہے امت میں سے کسی کو حاصل نہیں، اللہ ان سے خوش، اللہ ان سے راضی، یہ جنتی ہو چکے اور بدلے پالئے۔

صفحہ نمبر8642

صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کو برا نہ کہو ان کی بےادبی اور گستاخی نہ کرو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان کے تین پاؤ اناج بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کے اجر کو بھی نہیں پا سکتا“ ۔ [صحیح مسلم:2540] ‏

«الحمداللہ» سورۃ الفتح کی تفسیر ختم ہوئی۔

صفحہ نمبر8643
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved