Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
4:49
الم تر الى الذين يزكون انفسهم بل الله يزكي من يشاء ولا يظلمون فتيلا ٤٩
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا ٤٩
أَلَمۡ
تَرَ
إِلَى
ٱلَّذِينَ
يُزَكُّونَ
أَنفُسَهُمۚ
بَلِ
ٱللَّهُ
يُزَكِّي
مَن
يَشَآءُ
وَلَا
يُظۡلَمُونَ
فَتِيلًا
٤٩
Have you ˹O Prophet˺ not seen those who ˹falsely˺ elevate themselves? It is Allah who elevates whoever He wills. And none will be wronged ˹even by the width of˺ the thread of a date stone.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 4:47 to 4:50

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔

’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔

گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved