اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ موجودہ معلوم دنیا بعد کو آنے والی نامعلوم دنیا کی نشانی بن گئی ہے۔ زمین میں پھیلے ہوئے مادی واقعات اور انسان کے اندر چھپے ہوئے احساسات دونوں بالواسطہ انداز میں اس واقعہ کی پیشگی خبر دے رہے ہیں، جو موت کے بعد براہ راست انداز میں انسان کے سامنے آنے والا ہے۔ انہیں نشانیوں میں سے ایک نشانی نطق (بولنا) ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جو کچھ ملے گا وہ خود آدمی کے اپنے اعمال ہوں گے جو اس کی طرف لوٹا دیے جائیں گے (إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ) حلية الأولياء، جلد5، صفحہ
’’وہ یقینی ہے تمہارے نطق کی طرح‘‘ یعنی جب تمہارے نطق کی تکرار ممکن ہے تو تمہارے وجود کی تکرار کیوں ممکن نہیں۔ انسانی ہستی کے ایک جزء کی کامل تکرار کا مشاہدہ اسی دنیا میں ہو رہا ہے، اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انسانی ہستی کے کامل مجموعہ کی تکرار بھی ہوسکتی ہے۔