آیت 11 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ ہَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْٓا اِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ فَکَفَّ اَیْدِیھُمْ عَنْکُمْ ج یہ غزوۂ احزاب کے بعد کے حالات پر تبصرہ ہے۔ اس غزوہ کے بعد ابھی کفارّ میں سے بہت سے لوگ پیچ و تاب کھا رہے تھے اور بعید نہیں تھا کہ وہ دو بار مہم جوئی کرتے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کردیے اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ دوبارہ لشکر کشی کی جرأت نہ کرسکے۔ اس صورت حال کا ذکر اللہ تعالیٰ یہاں پر اپنے انعام کے طور پر کر رہے ہیں کہ جب کفار نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کریں ‘ تمہارے اوپر زیادتی کرنے کے لیے ‘ تم پر فوج کشی کے لیے اقدام کریں۔اس میں خاص طور پر اشارہ صلح حدیبیہ کی طرف ہے۔ اس وقت بھی قریش لڑائی کے لیے بیتاب ہو رہے تھے ‘ ان کے نوجوانوں کا خون کھول رہا تھا ‘ لیکن بالآخر انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوگیا کہ اب ہم مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان کے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خلاف اٹھنے سے روک دیا۔