آیت 17 لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عیسائیوں کے ہاں جودو عقیدے رہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ ہی مسیح علیہ السلام ہے۔ اس عقیدے کی بنیاد اس نظریہ پر قائم ہے کہ خدا خود ہی انسانی شکل میں ظہور کرلیتا ہے۔ اس عقیدے کو God Incarnate کہا جاتا ہے ‘ یعنی اوتار کا عقیدہ جو ہندوؤں میں بھی ہے۔ جیسے رام چندر جی ‘ کرشن جی مہاراج ان کے ہاں خدا کے اوتار مانے جاتے ہیں۔ چناچہ عیسائیوں کا فرقہ Jacobites خاص طور پر God Incarnate کے عقیدے کا سختی سے قائل رہا ہے ‘ کہ اصل میں اللہ ہی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی شکل میں دنیا میں ظہور فرمایا۔ جیسے ہمارے ہاں بھی بعض لوگ نبی مکرم ﷺ کی محبت و عقیدت اور عظمت کے اظہار میں غلو سے کام لے کر حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہاں تک کہہ جاتے ہیں : وہی جو مستوئ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ہو کر عیسائیوں کے اسی عقیدے کا ابطال اس آیت میں کیا گیا ہے۔وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔وہ جو چاہتا ہے ‘ جیسے چاہتا ہے ‘ تخلیق فرماتا ہے۔ اس نے آدم ‘ عیسیٰ اور یحییٰ f کو تخلیق فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اعجاز تخلیق کی مختلف مثالیں ہیں۔