Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
5:20
واذ قال موسى لقومه يا قوم اذكروا نعمة الله عليكم اذ جعل فيكم انبياء وجعلكم ملوكا واتاكم ما لم يوت احدا من العالمين ٢٠
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًۭا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٢٠
وَإِذۡ
قَالَ
مُوسَىٰ
لِقَوۡمِهِۦ
يَٰقَوۡمِ
ٱذۡكُرُواْ
نِعۡمَةَ
ٱللَّهِ
عَلَيۡكُمۡ
إِذۡ
جَعَلَ
فِيكُمۡ
أَنۢبِيَآءَ
وَجَعَلَكُم
مُّلُوكٗا
وَءَاتَىٰكُم
مَّا
لَمۡ
يُؤۡتِ
أَحَدٗا
مِّنَ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٢٠
And ˹remember˺ when Moses said to his people, “O my people! Remember Allah’s favours upon you when He raised prophets from among you, made you sovereign,1 and gave you what He had never given anyone in the world.2
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ واقعہ آ رہا ہے جب آپ علیہ السلام مصر سے اپنی قوم کو لے کر نکلے ‘ صحرائے سینا میں رہے ‘ آپ علیہ السلام کو کوہ طور پر بلایا گیا اور تورات دی گئی۔ اس کے بعد انھیں حکم ہوا کہ فلسطین میں داخل ہوجاؤ اور وہاں پر آباد مشرک اور کافر قوم جو فلسطی کہلاتے تھے کے ساتھ جنگ کرو اور انہیں وہاں سے نکالو ‘ کیونکہ یہ ارض مقدس تمہارے لیے اللہ کی طرف سے موعود ہے۔ اس لیے کہ ان کے جد امجدّ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا تعلق اسّ خطہ سے تھا۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے بنی اسرائیل مصر میں منتقل ہوئے تو انہیں حکم ہوا کہ اب جاؤ ‘ اپنے اصل گھر ارضِ ‘ فلسطین کو دوبارہ حاصل کرو۔ لیکن جب جنگ کا موقع آیا تو پوری قوم نے کو را جواب دے دیا کہ ہم جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جو تلخی پیدا ہوئی اور طبیعت کے اندر بےزاری کی جو کیفیت پیدا ہوئی ‘ اس کی شدت یہاں نظر آتی ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ رسول اپنی امت کے حق میں سراپا شفقت ہوتا ہے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نبی کا معاملہ بھی اللہ تعالیٰ کی مانند ہے۔ جیسے اللہ رؤف بھی ہے ‘ وَدُود بھی ‘ لیکن ساتھ ہی وہ عزیزٌ ذُوانتقام بھی ہے اللہ کی یہ دونوں شانیں ایک ساتھ ہیں اسی طرح رسول کا معاملہ ہے کہ رسول شفیق اور رحیم ہونے کے ساتھ ساتھ غیور بھی ہوتا ہے۔ نبی کے دل میں دین کی غیرت اپنے پیروکاروں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ لہٰذا قوم کے منفی ردّ عمل پر نبی کی بےزاری لازمی ہے۔یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو پے درپے معجزات کے ظہور نے تساہل پسند بنادیا تھا۔ پیاس لگی تو چٹان پر موسیٰ علیہ السلام کی ایک ہی ضرب سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ‘ بھوک محسوس ہوئی تو منّ وسلویٰ نازل ہوگیا ‘ دھوپ نے ستایا توابر کا سائبان ساتھ ساتھ چل پڑا ‘ سمندر راستے میں آیا تو عصا کی ضرب سے راستہ بن گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس لاڈ پیار کی وجہ سے وہ بگڑ گئے ‘ آرام طلب ہوگئے ‘ مشکل کی ہر گھڑی میں انھیں معجزے کے ظہور کی عادت سی پڑگئی اور جنگ کے موقع پر دشمن کا سامنا کرنے سے انکار کردیا ‘ باوجودیکہ ان کے کم ‘ ازکم ایک لاکھ افراد تو ایسے تھے جو جنگ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہی حکمت ہے کہ محمد رٌسول ‘ اللہ ﷺ کی پوری زندگی میں اس قسم کا کوئی معجزہ نظر نہیں آتا ‘ بلکہ یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ مسلمانو ! تمہیں جو کچھ کرنا ہے اپنی جان دے کر ‘ ایثار و قربانی سے ‘ محنت و مشقت سے ‘ بھوک جھیل کر ‘ فاقے برداشت کر کے کرنا ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل کے برعکس رسول اللہ ﷺ کے ‘ ساتھیوں میں ایثار و قربانی ‘ جرأت و بہادری اور بلندہمتی نظر آتی ہے ‘ جس کی واضح مثال غزوۂ بدر کے موقع پر حضرت مقداد رض کا یہ قول ہے : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا لَا نَقُوْلُ لَکَ کَمَا قَالَتْ بَنُوْ اِسْرَاءِیْلَ لِمُوْسٰی فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ وَلٰکِنِ امْضِ وَنَحْنُ مَعَکَ ‘ فَکَاَنَّہٗ سُرِّیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ 1 یارسول اللہ ! ہم آپ ﷺ سے بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جا کر قتال کرو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم کہیں گے آپ ﷺ قدم بڑھایئے ‘ ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں ! اس پر گویا رسول اللہ ﷺ کی پریشانی کا ازالہ ہوگیا۔آیت 0 2 وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ یعنی خود میں نبی ہوں ‘ میرے بھائی ہارون نبی ہیں۔ حضرت یوسف ‘ حضرت یعقوب ‘ حضرت اسحاق اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سب نبی تھے۔وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًاق اگرچہ اس وقت تک ان کی بادشاہت تو قائم نہیں ہوئی تھی مگر ہوسکتا ہے کہ یہ پیشین گوئی ہو کہ آئندہ تمہیں اللہ تعالیٰ زمین کی سلطنت اور خلافت عطا کرنے والا ہے۔ چناچہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی عظیم الشان سلطنت قائم ہوئی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے اقتدار کی طرف اشارہ ہے ‘ وہ اگرچہ مصر کے بادشاہ تو نہیں تھے لیکن بادشاہوں کے بھی مخدوم و ممدوح تھے اور بنی اسرائیل کو مصر میں پیرزادوں کا سا عزت و احترام حاصل ہوگیا تھا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved