اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ آدمی معاملات میں فریق ثانی کے ساتھ فراخ دلی کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ صبر کے ساتھ خلاف مزاج باتوں کو سہے۔ ناگواریوں کے باوجود دوسرے کا حق ادا کرے۔ جب آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ صرف فریق ثانی کے لیے اچھا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے لیے بھی اچھا کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کرتا ہے اور حقیقت پسندی کا مزاج بلاشبہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔