بیویوں کے پیدا کردہ بعض اندرونی مسائل کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں یہ قسم کھالی کہ میں شہد نہیں کھاؤں گا۔ مگر پیغمبر کا عمل اس کی امت کے لیے نمونہ بن جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ شرعی طریقہ کے مطابق کفارہ ادا کرکے اپنی قسم کو توڑ دیں۔ اور شہد نہ کھانے کے عہد سے اپنے آپ کو آزاد کرلیں۔ تاکہ ایسا نہ ہو کہ آئندہ آپ کے امتی اس کو تقوی کا معیار سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز کرنے لگیں۔