Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
6:105
وكذالك نصرف الايات وليقولوا درست ولنبينه لقوم يعلمون ١٠٥
وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْـَٔايَـٰتِ وَلِيَقُولُوا۟ دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُۥ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ ١٠٥
وَكَذَٰلِكَ
نُصَرِّفُ
ٱلۡأٓيَٰتِ
وَلِيَقُولُواْ
دَرَسۡتَ
وَلِنُبَيِّنَهُۥ
لِقَوۡمٖ
يَعۡلَمُونَ
١٠٥
And so We vary our signs to the extent that they will say, “You have studied ˹previous scriptures˺,”1 and We make this ˹Quran˺ clear for people who know.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 6:105 to 6:108

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پاکر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابل لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لیے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتادیا، تم نے بات ہم تک پہنچادی‘‘۔

جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لیے قابل قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہنا چاہیے جو براہِ راست خدا کی طرف سے تلقین کیاگیا ہے۔ کیوں کہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے، نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامي تک جاپہنچے۔

آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتاہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہوجاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہوجاتی ہے۔اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved