Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
6:116
وان تطع اكثر من في الارض يضلوك عن سبيل الله ان يتبعون الا الظن وان هم الا يخرصون ١١٦
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ ١١٦
وَإِن
تُطِعۡ
أَكۡثَرَ
مَن
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
يُضِلُّوكَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِۚ
إِن
يَتَّبِعُونَ
إِلَّا
ٱلظَّنَّ
وَإِنۡ
هُمۡ
إِلَّا
يَخۡرُصُونَ
١١٦
˹O Prophet!˺ If you were to obey most of those on earth, they would lead you away from Allah’s Way. They follow nothing but assumptions and do nothing but lie.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 6:116 to 6:117

آیت 116 وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط۔ جدید جمہوری نظام کے فلسفے کی نفی کے لیے یہ بڑی اہم آیت ہے۔ جمہوریت میں اصابتِ رائے کے بجائے تعداد کو دیکھا جاتا ہے۔ بقول اقبالؔ : ؂جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں ‘ تولا نہیں کرتے !اس حوالے سے قرآن کا یہ حکم بہت واضح ہے کہ اگر زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں گمراہ کردیں گے۔ دنیا میں اکثریت تو ہمیشہ باطل پرستوں کی رہی ہے۔ دور صحا بہ رض میں صحابہ کرام رض کی تعداد دنیا کی پوری آبادی کے تناظر میں دیکھیں تو لاکھ کے مقابلے میں ایک کی نسبت بھی نہیں بنتی۔ اس لیے اکثریت کو کلی اختیار دے کر کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہاں ایک صورت میں اکثریت کی رائے کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کہ اگر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو قطعی اصولوں اور land makrs کے طور پر مان لیا جائے تو پھر ان کی واضح کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے مباحات کے بارے میں اکثریت کی بنا پر فیصلے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً کسی دعوت کے ضمن میں اگر یہ فیصلہ کرنا مقصود ہو کہ مہمانوں کو کون سا مشروب پیش کیا جائے تو ظاہر ہے کہ شراب کے بارے میں تو رائے شماری نہیں ہوسکتی ‘ وہ تو اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے مطابق حرام ہے۔ ہاں روح افزا ‘ کو کا کو لا ‘ سپرائٹ وغیرہ کے بارے میں آپ اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ لیکن اختیار مطلق absolute authority اور اقتدار اعلیٰ sovereignty اکثریت کے پاس ہو تو اس صورت حال پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ چناچہ کلی اختیار اوراقتدارِاعلیٰ تو بہر حال اللہ کے پاس رہے گا ‘ جو اس کائنات اور اس میں موجود ہرچیز کا خالق اور مالک ہے۔ اکثریت کی رائے پر فیصلے صرف اس کے احکام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی کیے جاسکتے ہیں۔ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ الاَّ الظَّنَّ وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَخْرُصُوْنَ ۔یعنی یہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیں ‘ قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved