Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
7:129
قالوا اوذينا من قبل ان تاتينا ومن بعد ما جيتنا قال عسى ربكم ان يهلك عدوكم ويستخلفكم في الارض فينظر كيف تعملون ١٢٩
قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ١٢٩
قَالُوٓاْ
أُوذِينَا
مِن
قَبۡلِ
أَن
تَأۡتِيَنَا
وَمِنۢ
بَعۡدِ
مَا
جِئۡتَنَاۚ
قَالَ
عَسَىٰ
رَبُّكُمۡ
أَن
يُهۡلِكَ
عَدُوَّكُمۡ
وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَيَنظُرَ
كَيۡفَ
تَعۡمَلُونَ
١٢٩
They complained, “We have always been oppressed—before and after you came to us ˹with the message˺.” He replied, “Perhaps your Lord will destroy your enemy and make you successors in the land to see what you will do.”
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 7:127 to 7:129

بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر کے سامنے جو مسئلہ پیش کیا وہ حکومت کا پیدا کیا ہوا تھا۔ مگر پیغمبر نے اس کا جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کرو۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ قومی مسائل کے بارے میں دنیا دار لیڈروں کے سوچنے کے انداز اور پیغمبر کے سوچنے کے انداز میں کیا فرق ہے۔ دنیا دار لیڈر اس قسم کے مسئلہ کا حل حکومت کی سطح پر تلاش کرتا ہے، خواہ وہ حکومت سے مصالحت کی صورت میں ہو یا حکومت سے تصادم کی صورت میں۔ مگر پیغمبر نے جو حل بتایا وہ یہ تھا کہ جو کچھ ہورہا ہو اس کو برداشت کرتے ہوئے خدا سے مدد کے طالب بنو، حکومت کی طرف سے بے نیاز ہو کر خداکی طرف رجوع کرو۔

پھر پیغمبر نے یہ بھی بتادیا کہ وہ عام قومی ذوق کے خلاف جو حل پیش کررہا ہے وہ کیوں پیش کررہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مسائل اگر چہ بظاہر اقتدار کی طرف سے پیش آرہے ہیں او ربظاہر اقتدار ہی کے ذریعہ ان کا حل بھی نکلے۔ مگر خود اقتدار کیسے کسی کو ملتاہے۔ وہ محض اپنی تدبیروں سے کسی کو نہیں مل جاتا بلکہ براہِ راست خدا کی طرف سے کسی کو ديے جانے کا فیصلہ ہوتا ہے اور کسی سے چھینے جانے کا۔ جب اقتدار کا تعلق خدا سے ہے تو مسئلہ کے حل کی جڑ بھی یقینا ًخدا ہی کے پاس ہوسکتی ہے۔

پھر یہ کہ یہ اقتدار جس کو بھی دیا جائے وہ حقیقۃً اس کے حق میں آزمائش ہوتاہے۔ اس دنیا میں بے طاقتی بھی آزمائش ہے اور طاقت ور ہونا بھی آزمائش۔ آج جس کے پاس اقتدار ہے، اس کے پاس بھی اس ليے ہے کہ اس کو آزمایا جائے کہ وہ ظالم اور متکبر بنتا ہے یا انصاف اور تواضع کی روش اختیار کرتا ہے۔ اس کے بعد جب اقتدار کا فیصلہ تمھارے حق میں کیا جائے گا اس وقت بھی اس کا مقصد تم کو جانچنا ہی ہوگا جس طرح ایک گروہ کی نااہلی کی بنا پر اس سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے گروہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح دوسرا گروہ اگر نااہل ثابت ہو تو اس سے بھی چھین کر دوبارہ کسی اور کو دے دیا جائے گا۔

خوش حالی اور اقتدار جس کو آدمی دنیا میں چاہتاہے وہ حقیقت میںآخرت میں ملنے والی چیز ہے۔ کیوں کہ دنیا میں یہ چیز بطور آزمائش ملتی ہے اور آخرت میں وہ بطور انعام خداکے صالح بندوں کو دی جائیں گی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved