Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
7:141
واذ انجيناكم من ال فرعون يسومونكم سوء العذاب يقتلون ابناءكم ويستحيون نساءكم وفي ذالكم بلاء من ربكم عظيم ١٤١
وَإِذْ أَنجَيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ ۖ يُقَتِّلُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ ١٤١
وَإِذۡ
أَنجَيۡنَٰكُم
مِّنۡ
ءَالِ
فِرۡعَوۡنَ
يَسُومُونَكُمۡ
سُوٓءَ
ٱلۡعَذَابِ
يُقَتِّلُونَ
أَبۡنَآءَكُمۡ
وَيَسۡتَحۡيُونَ
نِسَآءَكُمۡۚ
وَفِي
ذَٰلِكُم
بَلَآءٞ
مِّن
رَّبِّكُمۡ
عَظِيمٞ
١٤١
And ˹remember˺ when We rescued you from the people of Pharaoh, who afflicted you with dreadful torment—killing your sons and keeping your women. That was a severe test from your Lord.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 7:138 to 7:141

بنی اسرائیل بحر احمر کے شمالی سرے کو پار کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے۔ پھر شمال سے جنوب کی طرف سمندر کے کنارے کنارے اپنا سفر شروع کیا۔ اس درمیان میں کسی مقام سے گزرتے ہوئے بنی اسرائیل نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بت کی پرستش میں مشغول ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے (نہ کہ سارے بنی اسرائیل نے) یہ تقاضا کیا کہ ان کے ليے ایک بت بنادیا جائے۔

آدمی کی سب سے بڑی کمزوری ظاہر پرستی ہے۔ وہ غیب میں چھپے ہوئے خدا پر اپنا ذہن پوری طرح جما نہیں پاتا۔ اس ليے وہ کسی نہ کسی ظاہری چیز میں اٹک کر رہ جاتا ہے۔ کچھ بے شعور لوگ پتھر اور دھات کے بنے ہوئے بتوں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور جو لوگ زیادہ مہذب ہیں وہ کسی شخصیت، کسی قوم یا کسی تمدنی ڈھانچہ کو اپنا مرکز توجہ بنالیتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے کچھ افراد نے جب حضرت موسیٰ سے ظاہری بت گھڑنے کی فرمائش کی تو آپ نے فرمایا كه یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ سب برباد کیا جانے والا ہے۔ یعنی ہمارا مشن تویہ ہے کہ ہم ان ظاہری خداؤں کو توڑ کر ختم کردیں اور آدمی کو پوری طرح صرف ایک خدا کا پرستار بنائیں۔ پھرکیسے ممکن ہے کہ ہم خود ہی اس قسم کا ایک ظاہری خدا اپنے ليے گھڑ لیں۔

’’بنی اسرائیل کو تمام اہل عالم پر فضیلت دی‘‘سے مراد کسی قسم کی نسلی فضیلت نہیں ہے بلکہ منصبی فضیلت ہے۔ یہ اسی معنی میں ہے جس میں امت محمدی کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی گروہ کو اپنی کتاب کا حامل بناتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسری اقوام تک اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ منصب بنی اسرائیل (یہود) کو حاصل تھا، ختم نبوت کے بعد یہ منصب امت محمدی کو دیاگیا ہے۔

فرعون کو یہ موقع ملنا کہ وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرے۔ یہ بنی اسرائیل کے ليے بطور آزمائش تھا، نہ کہ بطور عذاب۔ اس طرح کی آزمائش اس ليے ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان کو جھنجھوڑ کر بیدار کیا جائے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کون مشکل حالات میں خدا کے دین سے پھر جاتاہے اور کون ہے جو صبر کی حد تک خدا کے دین پر قائم رہنے والا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved