حضرت ہارون موسی کے بڑے بھائی تھے، حضرت موسیٰ کی عمر ان سے تین سال کم تھی۔ مگر نبوت اصلاً حضرت موسیٰ کو ملی اور حضرت ہارون ان کے ساتھ صرف مددگار کی حیثیت سے شریک كيے گئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ دینی عہدوں کی تقسیم میں اصل اہمیت استعداد کی ہے، نہ کہ عمر یا اسی قسم کی دوسری اضافی چیزوں کی۔
حضرت موسی کو مصر میں دعوتی احکام ديے گئے تھے اور صحرائے سینا میں پہنچنے کے بعد پہاڑی پر بلاکر قانونی احکام ديے گئے۔ اس سے خدائی احکام کی ترتیب معلوم ہوتی ہے۔ عام حالات میں خدا پرستوں سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ ذاتی زندگی کو درست کریں،اور خدا کے پرستار بن کر رہیں۔ اسی کے ساتھ دوسروں کو بھی توحید وآخرت کی طرف بلائیں۔ مگر جب اہل ایمان آزاد اور بااختیار گروہ کی حیثیت حاصل کرلیں ، جیسا کہ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل تھے، تو ان پر یہ فرض بھی عائد ہوجاتا ہے کہ اپنی اجتماعی زندگی کو شرعی قوانین کی بنیاد پر قائم کریں۔
حضرت موسیٰ نے اپنی غیر موجودگی کے لیے جب حضرت ہارون کو بنی اسرائیل کا نگراں بنایا تو فرمایا أَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
حضرت موسیٰ نے خدا کو دیکھنا چاہا اور جب معلوم ہوا کہ خدا کو دیکھنا ممکن نہیں تو انھوں نے توبہ کی اور بغیر دیکھے ایمان کا اقرار کیا— انسان کا امتحان یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر خدا کو مانے۔ خدا کو دیکھنا ایک اخروی انعام ہے پھر وہ موجودہ دنیا میں کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے۔