آیت 160 وَقَطَّعْنٰہُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَۃَ اَسْبَاطًا اُمَمًاط۔ ان کی نسل حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے چلی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لحاظ سے ان میں ایک مضبوط قبائلی نظام کو قائم رکھا۔ ہر بیٹے کی اولاد سے ایک قبیلہ وجود میں آیا اور یہ الگ الگ بارہ جماعتیں بن گئیں۔فَانْبَجَسَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًاط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ ط۔ مَشرب اسم ظرف ہے ‘ یعنی پانی پینے کی جگہ۔ ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معین کرلیا تاکہ پانی کی تقسیم میں کسی قسم کا کوئی تنازعہ جنم نہ لے۔وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ وہ اللہ کا کچھ نقصان کر بھی کیسے سکتے تھے۔ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے ؟ ایک حدیث قدسی کا مفہوم اس طرح سے ہے : اے میرے بندو ‘ اگر تمہارے اوّلین بھی اور آخرین بھی ‘ انسان بھی اور جن بھی ‘ سب کے سب اتنے متقی ہوجائیں جتنا کہ تم میں کوئی بڑے سے بڑا متقی ہوسکتا ہے ‘ تب بھی میری سلطنت اور میرے کارخانۂ قدرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔۔ اور اگر تمہارے اوّلین و آخرین اور انس و جن سب کے سب ایسے ہوجائیں جتنا کہ تم میں کوئی زیادہ سے زیادہ سرکش و نافرمان ہوسکتا ہے ‘ تب بھی میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ 1