حضرت نوح کی اس تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اندازِ دعوت بھی عین وہی تھا جو قرآن میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت نوح نے کائناتی واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اپنی دعوت پیش کی۔ انہوں نے اجتماعی خطاب بھی کیا اور انفرادی گفتگوئیں بھی کیں۔ لوگوں کا اصلاح پر لانے کے لیے انہوں نے اپنی ساری کوشش صرف کر ڈالی۔ مگر قوم آپ کی بات ماننے پر راضی نہ ہوئی۔
مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلهِ وَقَارًا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے ان الفاظ میں کی ہے لَا تُعَظِّمُونَ اللهَ حَقَّ عَظَمَتِهِ (تفسیر الطبری، جلد