Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
8:23
ولو علم الله فيهم خيرا لاسمعهم ولو اسمعهم لتولوا وهم معرضون ٢٣
وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ ٢٣
وَلَوۡ
عَلِمَ
ٱللَّهُ
فِيهِمۡ
خَيۡرٗا
لَّأَسۡمَعَهُمۡۖ
وَلَوۡ
أَسۡمَعَهُمۡ
لَتَوَلَّواْ
وَّهُم
مُّعۡرِضُونَ
٢٣
Had Allah found any goodness in them, He would have certainly made them hear. ˹But˺ even if He had made them hear, they would have surely turned away heedlessly.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat

آدمی کے سامنے جب حق بات پیش کی جائے تو ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کو ان تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے سنے جو خدا نے اس کو بحیثیت انسان عطا کی ہیں۔ وہ اس پر پوری طرح دھیان دے۔ وہ اس کی صداقت کے وزن کو محسوس کرلے۔ اور پھر اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش کرے جو ایک حق کے مقابلہ میں انسان کی فطرت کو پیش کرنا چاہیے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو انسان کی طرح سنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس کو اس طرح سنے جیسے کہ اس کے پاس سننے کے ليے کان نہیں ہیں۔ اس کے سمجھنے کی صلاحیت اس کی سچائی کو پکڑنے سے عاجز رہ جائے۔ وہ اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش نہ کرسکے جو اس کو ازروئے واقعہ پیش کرنا چاهيے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو جانور کی طرح سنا۔

کوئی بات خواہ وہ کتنی ہی برحق ہو اس کی حقانیت صرف اسی شخص پر کھلتی ہے جو دل کی آمادگی کے ساتھ اس کو سنے۔ اس کے برعکس، جو شخص حسد، کبر، مصلحت اندیشی اور ظاہر پرستی کا مزاج اپنے اندر ليے ہوئے ہو وہ سچائی کو قابل غور نہیں سمجھے گا، وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنے گا، اس ليے وہ اس کی صداقت کو پانے میں بھی یقینی طور پر ناکام رہے گا۔

ایمان بظاہر ایک قول ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انسانی فیصلہ ہے۔ ایمان محض شہادت کے الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنی معنوی حالت کا لفظی اظہار ہے۔ اگر آدمی کی حالت فی الواقع وہی ہو جس کا وہ ان الفاظ کے ذریعے اعلان کررہا ہے تو وہ خدا کی نظر میں حقیقی مومن ہے۔ مومن سنجیدہ ترین انسان ہے اور سنجیدہ انسان کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ اس کي اندرونی حالت کچھ ہو اور بولے ہوئے الفاظ میں وہ اپنے کو کچھ ظاہر کرے۔

جس آدمی کا ایمان اپنی اندرونی حقیقت کے اعلان کے ہم معنی ہو وہ ایمان کا اقرار کرتے ہی عملاً خدا کو اپنا معبود بنالے گا اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اس کی پیروی کرنے والا بن جائے گا۔ زبان سے ایمان کا اقرار اس کے ليے اپنی سمت سفر بتانے کے ہم معنی ہوگا، نہ کہ کسی قسم کے لسانی تلفظ کے ہم معنی۔ اس کے برعکس، حالت اس شخص کی ہے جس نے بات سنی۔ وہ اس کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب بھی ہوگیا۔ مگر وہ اس کی روح میں نہیں اتری۔ وہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں شامل نہیں ہوئی۔ تاہم اوپری طورپر اس نے زبان سے کہہ دیا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ مگر اس کی واقعی زندگی اس کے بعد بھی ویسی ہی رہی جیسی کہ وہ اس سے پہلے تھی۔ یہ دوسری نفاق کی صورت ہے اور خدا کے یہاں ایسے منافقانہ ایمان کی کوئی قیمت نہیں۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved