Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
8:57
فاما تثقفنهم في الحرب فشرد بهم من خلفهم لعلهم يذكرون ٥٧
فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِى ٱلْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ٥٧
فَإِمَّا
تَثۡقَفَنَّهُمۡ
فِي
ٱلۡحَرۡبِ
فَشَرِّدۡ
بِهِم
مَّنۡ
خَلۡفَهُمۡ
لَعَلَّهُمۡ
يَذَّكَّرُونَ
٥٧
If you ever encounter them in battle, make a fearsome example of them, so perhaps those who would follow them may be deterred.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 8:55 to 8:58

مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاانکار کرکے خدا کی نظر میں مجرم ہوچکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عہدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں غیر جانب دار رہیں گے۔ مگر یہود خفیہ طورپر آپ کے دشمنوں (مشرکین) سے مل کر آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہ کفر پر بد عہدی کا اضافہ تھا۔ یہ انکار کے ساتھ کمینگی کو جمع کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کے ليے آخرت میں ہولناک عذاب ہے اور دنیا میں یہ حکم ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کی شرارتوں کا خاتمہ ہو اور ان کے ارادے پست ہوجائیں۔

اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا عہد ہو اور مسلمان ان کی طرف سے بد عہدی کے اندیشہ کی بنا پر اس عہد کو توڑنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ پہلے انھیں اس کی اطلاع دیں تاکہ دونوں پیشگی طورپر یہ جان لیں کہ اب دونوں کے درمیان عہد کی حالت باقی نہیں رہی۔ امیر معاویہ اور رومی حکمراں میں ایک بار میعادی معاہدہ تھا۔ معاہدہ کی مدت قریب آئی تو امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو خاموشی کے ساتھ روم کی سرحد پر جمع کرنا شروع کیا تاکہ معاہدہ کی تاریخ ختم ہوتے ہی اگلی صبح کو اچانک رومی علاقہ پر حملہ کردیا جائے۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمرو بن عنبسہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ وہ بآواز بلند کہہ رہے تھے اللہ اکبر اللہ اکبر وفاءٌ لا غدرٌ (اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد کو پورا کرو، عہد کو نہ توڑو)، انھوں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائیمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحِلَّنَّ عُقْدَةً وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا، أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 17015)۔يعني، جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہوجائے یا برابری کے ساتھ عہد اس کی طرف پھینک دیا جائے۔

دوسری صورت وہ ہے جب کہ صرف اندیشہ کی بات نہ ہو بلکہ فریق ثانی کی طرف سے عملاً معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں اجازت ہے کہ فریق ثانی کو مطلع كيے بغیر جوابی کارروائی کی جائے۔ غزوۂ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدۂ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع ديے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved