غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں یہ فضا تھی کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ ارباب عزیمت شمار ہورہے تھے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے وہ منافق اور پست ہمت سمجھے جاتے تھے۔ بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اور اصحابِ رسول کے عمل كو کم تر ظاہر کرنے کے ليے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ کسی نے کہا: یہ قرآن پڑھنے والے ہمیں تواس کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتے کہ وہ ہم میں سب سے زیادہ بھوکے ہیں ، ہم میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں ۔ اور ہم میں سب سے زیادہ بز دل ہیں :مَا أَرَى قُرّاءنا هَؤُلَاءِ إِلَّا أَرْغَبَنَا بُطُونًا، وَأَكْذَبَنَا أَلْسِنَةً، وَأَجْبَنَنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ(تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا۔ وہ کہنے لگے: ہم تو صرف ہنسی کھیل کی باتیں کررہے تھے (إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ( تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
اللہ اور رسول کی بات ہمیشہ کسی آدمی کی زبان سے بلند ہوتی ہے۔ یہ آدمی اگر دیکھنے والوں کی نظر میں بظاہر معمولی ہو تو وہ اس کا استہزاء کرنے لگتے ہیں ۔ مگر یہ استہزاء اس آدمی کا نہیں ہے خود خدا کا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ صرف یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں ، ان کی جھوٹی تاویلیں ان کی حقیقت کو چھپانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔
نفاق اور ارتداد دونوں ایک ہی حقیقت کی دو صورتیں ہیں ۔آدمی اگر اسلام اختیار کرنے کے بعد کھلم کھلا منکر ہوجائے تو یہ ارتداد ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ ذہن اور قلب کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور ہو مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرے تو یہ نفاق ہے۔ ایسے منافقین کا انجام خدا کے یہاں وہی ہے جو مرتدین کا ہے، إلاّ یہ کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی غلطیوں کا اقرار کرکے اپنی اصلاح کرلیں ۔