Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
9:8
كيف وان يظهروا عليكم لا يرقبوا فيكم الا ولا ذمة يرضونكم بافواههم وتابى قلوبهم واكثرهم فاسقون ٨
كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّۭا وَلَا ذِمَّةًۭ ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَـٰسِقُونَ ٨
كَيۡفَ
وَإِن
يَظۡهَرُواْ
عَلَيۡكُمۡ
لَا
يَرۡقُبُواْ
فِيكُمۡ
إِلّٗا
وَلَا
ذِمَّةٗۚ
يُرۡضُونَكُم
بِأَفۡوَٰهِهِمۡ
وَتَأۡبَىٰ
قُلُوبُهُمۡ
وَأَكۡثَرُهُمۡ
فَٰسِقُونَ
٨
How ˹can they have a treaty˺? If they were to have the upper hand over you, they would have no respect for kinship or treaty. They only flatter you with their tongues, but their hearts are in denial, and most of them are rebellious.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 9:7 to 9:11

مسلمانوں کو جب زور حاصل ہوگیا تو قریش نے ان سے معاہدے کرليے۔ تاہم وہ ان معاہدوں سے خوش نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اپنے ’’دشمن‘‘ سے یہ معاہدہ انھوں نے اپنی بربادی کی قیمت پر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت اس انتظار میں رہتے تھے کہ جہاں موقع ملے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں یا کم ازکم انھیں بدنام کریں ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک فریق کی طرف سے اس قسم کی خیانت کا مظاہرہ ہو تو دوسرے فریق کے ليے کسی معاہدہ کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔

یہ قریش کا حال تھا ،جن کو مسلمانوں کے عروج میں اپنی قیادت چھنتی ہوئی نظرآتی تھی۔ تاہم کچھ دوسرے عرب قبائل (بنو کنانہ، بنو خزاعہ، بنو ضمرہ) جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے، انھوں نے مسلمانوں سے معاہدے كيے اور اپنے معاہدے پر قائم رہے۔ جب چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیاگیا تو ان کے معاہدہ کی میعاد پوری ہونے میں تقریباً نومہینے باقی تھے۔ حکم ہوا کہ ان سے معاہدہ کو آخر وقت تک باقی رکھو، کیوں کہ تقویٰ کا تقاضا یہی ہے۔ مگر اس مدت کے ختم ہونے کے بعد پھر کسی سے اس قسم کا معاہدہ نہیں کیا گیا اور تمام مشرکین کے سامنے صرف دو صورتیں باقی رکھی گئیں یا اسلام لائیں یا جنگ کے ليے تیار ہوجائیں ۔

معاشرتی زندگی کی بنیاد ہمیشہ دو چیزوں پر ہوتی ہے— رشتہ داری یا قول وقرار۔ جن سے رحمی رشتے ہیں ان کے حقوق کا لحاظ آدمی رحمی رشتوں کی بنیاد پر کرتاہے۔ اور جن سے قول وقرار ہوچکا ہے ان سے قول وقرار کی بنا پر۔ مگر جب آدمی کے اوپر دنیا کے مفاد اور اس کی مصلحت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ دونوں باتوں کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے حقیر فائدہ کی خاطر رحمی حقوق کو بھی بھول جاتا ہے اور قول وقرار کو بھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں ۔ وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں ۔ دنیا میں اگر وہ چھوٹ گئے تو آخرت میں وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کریں اور سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برارہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved