Sign in
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
🚀 Join our Ramadan Challenge!
Learn more
Sign in
Sign in
9:96
يحلفون لكم لترضوا عنهم فان ترضوا عنهم فان الله لا يرضى عن القوم الفاسقين ٩٦
يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا۟ عَنْهُمْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَـٰسِقِينَ ٩٦
يَحۡلِفُونَ
لَكُمۡ
لِتَرۡضَوۡاْ
عَنۡهُمۡۖ
فَإِن
تَرۡضَوۡاْ
عَنۡهُمۡ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يَرۡضَىٰ
عَنِ
ٱلۡقَوۡمِ
ٱلۡفَٰسِقِينَ
٩٦
They will swear to you in order to please you. And even if you are pleased with them, Allah will never be pleased with the rebellious people.
Tafsirs
Lessons
Reflections
Answers
Qiraat
You are reading a tafsir for the group of verses 9:94 to 9:96

’’تمھارے حالات ہم کو اللہ نے بتا ديے ہیں ‘‘ کا فقرہ ظاہر کرہا ہے کہ یہاں جن منافقین کا ذکر ہے ان سے مراد زمانہ نزول قرآن کے منافقین ہیں ۔ کیوں کہ براہِ راست وحی خداوندی کے ذریعہ آگاہ ہونے کا معاملہ صرف زمانۂ رسالت میں ہوا یا ہو سکتا تھا۔ بعد کے زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں ۔ طبقات ابن سعد کی روایت کے مطابق یہ کل بیاسی ( 82 )افراد تھے جن کے نفاق کے بارے میں اللہ نے بذریعہ وحی مطلع فرمایا تھا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ 125 )۔

تاہم اس علم کے باوجود صحابہ کرام کو ان کے ساتھ جس سلوک کی اجازت دی گئی، وہ تغافل اور اعراض تھا، نہ کہ ان کو ہلاک کرنا۔ ان کو سزا یا عذاب دینے کا معاملہ پھر بھی خدا نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اگرچہ اتنی سختی کی گئی کہ انھوں عذرات پیش كيے تو ان کے عذرات قبول نہیں كيے گئے۔ حتی کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے منافقانہ روش اختیار کرنے کے بعد زکوٰۃ پیش کی تو ان کی زکوٰۃ لینے سے انکار کردیاگیا۔ تاہم ان میں سے کسی کو بھی آپ نے قتل نہیں کرایا۔ عبد اللہ بن ابی کے لڑکے عبد اللہ نے اپنے باپ کی منافقانہ حرکت پر سخت کارروائی کرنی چاہی تو آپ نے روک دیا اور فرمایا: انھیں چھوڑ دو، بخدا جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں ہم ان کے ساتھ اچھا ہی سلوک کریں گے (دعہ فلعمری لنحسنن صحبتہ ما دام بین اظہرنا) الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد2، صفحہ 50۔

بعد کے زمانہ کے منافقین کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ دور اول کے منافقین سے ان کی حالتِ قلبی کی بنیاد پر معاملہ کیا گیا، مگر بعد کے منافقین سے ان کی حالت ظاہری کی بنیاد پر معاملہ کیا جائے گا۔ان سے اعراض وتغافل کا سلوک صرف اس وقت جائز ہوگا جب کہ ان کے عمل سے ان کی منافقت کا خارجی ثبوت مل رہا ہو۔ ان کی نیت یا ان کی قلبی حالت کی بناپر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ بعد کے لوگ عذر پیش کریں تو ان کا عذر بھی قبول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ان کے صدقات وغیرہ بھی۔ ان کے انجام کو اللہ کے حوالے کرتے ہوئے ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو ظاہری قانون کے مطابق کسی کے ساتھ کیا جانا چاہيے۔

جنت کسی کو ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتی ہے، نہ کہ مسلمانوں کی جماعت یا گروہ میں شامل ہونے کی بنیاد پر۔ منافقین سب کے سب مسلمانوں کی جماعت میں شامل تھے وہ ان کے ساتھ نماز روزہ کرتے تھے مگر اس کے باوجود ان کے جہنمی ہونے کا اعلان کیاگیا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Read, Listen, Search, and Reflect on the Quran

Quran.com is a trusted platform used by millions worldwide to read, search, listen to, and reflect on the Quran in multiple languages. It provides translations, tafsir, recitations, word-by-word translation, and tools for deeper study, making the Quran accessible to everyone.

As a Sadaqah Jariyah, Quran.com is dedicated to helping people connect deeply with the Quran. Supported by Quran.Foundation, a 501(c)(3) non-profit organization, Quran.com continues to grow as a free and valuable resource for all, Alhamdulillah.

Navigate
Home
Quran Radio
Reciters
About Us
Developers
Product Updates
Feedback
Help
Our Projects
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profit projects owned, managed, or sponsored by Quran.Foundation
Popular Links

Ayatul Kursi

Yaseen

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqi'ah

Al Kahf

Al Muzzammil

SitemapPrivacyTerms and Conditions
© 2026 Quran.com. All Rights Reserved