تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٧٤:١٠
ثم بعثنا من بعده رسلا الى قومهم فجاءوهم بالبينات فما كانوا ليومنوا بما كذبوا به من قبل كذالك نطبع على قلوب المعتدين ٧٤
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِۦ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ فَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ بِمَا كَذَّبُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ نَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُعْتَدِينَ ٧٤
ثُمَّ
بَعَثۡنَا
مِنۢ
بَعۡدِهِۦ
رُسُلًا
إِلَىٰ
قَوۡمِهِمۡ
فَجَآءُوهُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ
فَمَا
كَانُواْ
لِيُؤۡمِنُواْ
بِمَا
كَذَّبُواْ
بِهِۦ
مِن
قَبۡلُۚ
كَذَٰلِكَ
نَطۡبَعُ
عَلَىٰ
قُلُوبِ
ٱلۡمُعۡتَدِينَ
٧٤
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
سلسلہ رسالت کا تذکرہ ٭٭

حضرت نوح علیہ السلام کے بعد بھی رسولوں کا سلسلہ جاری رہا ہر رسول اپنی قوم کی طرف اللہ کا پیغام اور اپنی سچائی کی دلیلیں لے کر آتا رہا۔ لیکن عموماً ان سب کے ساتھ بھی لوگوں کی وہی پرانی روش رہی۔ یعنی ان کی سچائی تسلیم کو نہ کیا جیسے آیت «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» [6-الأنعام:110] ‏ میں ہے۔

پس ان کے حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگ گئی۔ اسی طرح ان جیسے تمام لوگوں کے دل مہر زدہ ہو جاتے ہیں اور عذاب دیکھ لینے سے پہلے انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا یعنی نبیوں اور ان کے تابعداروں کو بچا لینا اور مخالفین کو ہلاک کرنا۔ نوح نبی علیہ السلام کے بعد سے برابر یہی ہوتا رہا ہے۔ آدم علیہ السلام کے زمانے میں بھی انسان زمین پر آباد تھے۔ جب ان میں بت پرستی شروع ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر نوح علیہ السلام کو ان میں بھیجا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیامت کے دن لوگ نوح علیہ السلام کے پاس سفارش کی درخواست لے کر جائیں گے تو کہیں گے کہ آپ پہلے رسول ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ [صحیح بخاری:3340] ‏۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان دس زمانے گزرے اور وہ سب اسلام میں ہی گزرے ہیں۔ اسی لیے فرمان اللہ ہے کہ «وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ» ‏ [17-الإسراء:17] ‏ ” نوح علیہ السلام کے بعد کے آنے والی قوموں کو ہم نے ان کی بد کرداریوں کے باعث ہلاک کر دیا “۔

مقصود یہ کہ ان باتوں کو سن کر مشرکین عرب ہوشیار ہو جائیں کیونکہ وہ سب سے افضل و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں۔ پس جب کہ ان کے کم مرتبہ نبیوں اور رسولوں کے جھٹلانے پر ایسے دہشت افزاء عذاب سابقہ لوگوں پر نازل ہو چکے ہیں تو اس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے پر ان سے بھی بدترین عذاب ان پر نازل ہوں گے۔

صفحہ نمبر3744
Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة