تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٣:١١
ام يقولون افتراه قل فاتوا بعشر سور مثله مفتريات وادعوا من استطعتم من دون الله ان كنتم صادقين ١٣
أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِعَشْرِ سُوَرٍۢ مِّثْلِهِۦ مُفْتَرَيَـٰتٍۢ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ١٣
أَمۡ
يَقُولُونَ
ٱفۡتَرَىٰهُۖ
قُلۡ
فَأۡتُواْ
بِعَشۡرِ
سُوَرٖ
مِّثۡلِهِۦ
مُفۡتَرَيَٰتٖ
وَٱدۡعُواْ
مَنِ
ٱسۡتَطَعۡتُم
مِّن
دُونِ
ٱللَّهِ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
١٣
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:12إلى 11:14

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شرک کی تردید کی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو آپ کے مخاطبین بگڑ گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی باتوں سے ان کے ان بڑوں پر زد پڑتی تھی جن کے دین کو انھوں نے اختیار کررکھا تھا اور جن سے انتساب پر وہ فخر کرتے تھے۔ صورت حال یہ تھی کہ قدیم عربوں کے یہ اکابر تاریخی طورپر ان کی نظر میں باعظمت بنے ہوئے تھے، جب کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ابھی تاریخ کی عظمتیں شامل نہیں ہوئی تھیں۔ اس وقت آپ لوگوں کو ایک بے حیثیت انسان کے روپ میں نظر آتے تھے۔ عرب کے لوگ یہ دیکھ کر سخت برہم ہوتے تھے کہ ایک معمولی آدمی ایسی باتیں کہہ رہا ہے جس سے ان کے اکابر و اعاظم بے اعتبار ثابت ہورہے ہیں۔

ایسی حالت میں داعی کے ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ وہ، کم از کم وقتی طور پر، تنقیدی انداز سے پرہیز کرے اور صرف مثبت طورپر اپنا پیغام پیش کرے۔ ’’شاید تم وحی کے بعض حصہ کی تبلیغ چھوڑ دو گے‘‘ سے مراد وحی خداوندی کا یہی تنقیدی حصہ ہے۔ مگر اللہ تعالی کو وضاحت مطلوب ہے اور تنقید کے بغیر وضاحت ممکن نہیں۔ پھر اگر حق کو پوری طرح کھولنے کے نتیجہ میں لوگ داعی کو استہزاء اور مخالفت کا موضوع بنائیں تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت۔ مدعو کی طرف سے یہ مخالفانہ رد عمل تو دراصل وہ قیمت ہے جو کسی آدمی کو بے آمیز حق کا داعی بننے کے لیے اس دنیا میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

خدا کے داعی کے برحق ہونے کا سب سے زیادہ یقینی ثبوت اس کا ناقابل تقلید کلام ہے۔ جو لوگ پیغمبر کو حقیر سمجھ رہے تھے اوریہ یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس بظاہر معمولی آدمی کو وہ سچائی ملی ہے جو ان کے اکابر کو بھی نہیں ملی تھی۔ ان سے کہاگیا کہ پیغمبر کی صداقت کو اس معیار پر نہ جانچو کہ مادی اعتبار سے وہ کیسا ہے۔ بلکہ اس حیثیت سے دیکھو کہ وہ جس کلام کے ذریعہ اپنی دعوت پیش کررہا ہے وہ کلام اتنا عظیم ہے کہ تم اور تمھارے تمام اکابر مل کر بھی ویسا کلام نہیں بنا سکتے۔ یہ ناقابلِ تقلید امتیاز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ پیغمبر کے برسر حق ہونے کی اس واضح نشانی کے بعد آخر لوگوں کو خدا کا حکم بردار بننے میں کس چیز کا انتظار ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة