تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٧٧:١١
ولما جاءت رسلنا لوطا سيء بهم وضاق بهم ذرعا وقال هاذا يوم عصيب ٧٧
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَصِيبٌۭ ٧٧
وَلَمَّا
جَآءَتۡ
رُسُلُنَا
لُوطٗا
سِيٓءَ
بِهِمۡ
وَضَاقَ
بِهِمۡ
ذَرۡعٗا
وَقَالَ
هَٰذَا
يَوۡمٌ
عَصِيبٞ
٧٧
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 11:77إلى 11:79
لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭

ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ” جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا “۔‏“

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔

صفحہ نمبر3888

اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔

اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ ”تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔‏“ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ” ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے “۔

قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» [15-الحجر:70] ‏ ” اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو “۔

لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» [15-الحجر:72-71] ‏ ” عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے “۔

صفحہ نمبر3889

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔‏“ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔

امام ابن جریج فرماتے ہیں ”یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔‏“

فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔ اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔

صفحہ نمبر3890
Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة